
شیلانگ، 22 اگست(ہ س)۔
میگھالیہ کے دارالحکومت شیلانگ میں ہفتے کے روز سکیورٹی انتظامات مزید سخت کردیے گئے۔ خاسی اسٹوڈنٹس یونین (کے ایس یو) کی ریلی کے دوران 19 اگست کو ہونے والے تشدد کے بعد فوج اور ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) نے شہر کے مختلف علاقوں میں فلیگ مارچ کیا۔
شیلانگ میں سکیورٹی فورسز کی اضافی تعیناتی کا فیصلہ اس واقعے کے بعد کیا گیا، جس میں کے ایس یو کے سیاہ پرچم احتجاج کے دوران آسام سے آنے والے سیاحوں کی گاڑیوں کو مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا تھا۔ متعدد گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے گئے جبکہ بعض سیاحوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ تشدد کے دوران سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچا۔
صورتحال پر قابو پانے میں ریاستی پولیس کی مدد کے لیے مرکزی حکومت نے میگھالیہ میں مرکزی مسلح فورسز کی پانچ کمپنیاں تعینات کرنے کی منظوری دی ہے۔ دوسری جانب واقعے کے بعد آسام کی مختلف تنظیموں کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
اسی دوران آسام کے سرحدی تحفظ و ترقی کے وزیر اتل بورا اور میگھالیہ کے نائب وزیر اعلیٰ سنیاؤبھالانگ دھر نے ہفتے کے روز گواہاٹی میں دونوں ریاستوں کے اعلیٰ افسران کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کیا۔ اجلاس میں شیلانگ واقعے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی اور جوراباٹ میں جاری احتجاج کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور مزید کشیدگی کو روکنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اتل بورا نے شیلانگ کے واقعے کو ’’نامناسب اور بدقسمتی پر مبنی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آسام کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہیمنت بسوا سرما نے واقعے کے فوراً بعد ضروری اقدامات کیے۔ انہوں نے بتایا کہ سرما نے میگھالیہ کے وزیر اعلیٰ کونراڈ سنگما سے بات کی تھی، جس کے بعد دونوں ریاستوں کے درمیان امن برقرار رکھنے اور لوگوں کی آمدورفت معمول پر لانے کے اقدامات پر کام کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔آسام کے وزیر نے دونوں ریاستوں کے عوام سے امن اور بھائی چارہ برقرار رکھنے کی اپیل کی اور آسام و میگھالیہ کے درمیان طویل عرصے سے چلے آرہے باہمی تعلقات کا حوالہ دیا۔
شیلانگ میں تشدد کے بعد آسام میں موٹر گاڑیوں سے وابستہ مزدور تنظیموں نے احتجاج شروع کردیا تھا۔ اگلے روز جوراباٹ میں بھی مظاہرہ شروع ہوگیا، جہاں مظاہرین نے میگھالیہ میں رجسٹرڈ گاڑیوں کو آسام میں داخل ہونے سے روکا اور بعض گاڑیوں کو واپس جانے پر مجبور کیا۔جوراباٹ میں احتجاج ہفتے کے روز تیسرے دن بھی جاری رہا۔
وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے جمعرات کو کہا تھا کہ انہوں نے میگھالیہ کے وزیر اعلیٰ کونراڈ سنگما سے بات کی ہے اور موجودہ کشیدہ صورتحال کے درمیان میگھالیہ میں پھنسے آسام کے لوگوں کے خدشات کو دور کرنا فوری ترجیح ہے۔شیلانگ میں سکیورٹی فورسز کی اضافی تعیناتی اور جوراباٹ میں پولیس کی بھاری موجودگی کے درمیان دونوں ریاستوں کے حکام اب صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکنے اور آسام و میگھالیہ کے درمیان لوگوں اور گاڑیوں کی آمدورفت معمول پر لانے پر توجہ مرکوز کررہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan