
وزیر اعلیٰ نے نئی دہلی میں سرمایہ کاروں کو مدھیہ پردیش کی خوبیوں سے آگاہ کیا
بھوپال، 22 اگست (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ ملک کے ساتھ ساتھ ریاست بھی بدل رہی ہے۔ کبھی مدھیہ پردیش پر بیمارو ریاست ہونے کا ٹیگ لگا دیا گیا تھا، لیکن ہم نے اس ٹیگ کو پوری طرح مٹا دیا ہے۔ چیلنجز تو درپیش تھے، مگر ہم نے ان چیلنجز کو پہچان کر ترقی کے مواقع میں تبدیل کر دیا۔ آج ہمارا مدھیہ پردیش ملک میں تیز ترین رفتار سے ترقی کرنے والا صوبہ بن چکا ہے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو ہفتہ کے روز نئی دہلی کے ایک نجی ہوٹل میں منعقدہ ’دی اکنامک ٹائمز ورلڈ لیڈرز فورم-2026‘ میں ’مدھیہ پردیش سیشن‘ سے خطاب کر رہے تھے۔ سیشن کا عنوان ’فائر سائیڈ چیٹ آن ایم پی: ان لاکنگ دی ہارٹ آف انڈیا‘ تھا۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ آج مدھیہ پردیش میں ہر شعبے میں ترقی ہو رہی ہے۔ زراعت کے معاملے میں تو ہم پہلے ہی آگے تھے، اب صنعتی ترقی میں بھی ہم تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ سال ہم نے بھوپال میں گلوبل انویسٹرز سمٹ کا انعقاد کیا۔ اس کے علاوہ ریاست کے ہر خطے میں ریجنل انڈسٹری کانکلیو کامیابی سے منعقد کر کے سرمایہ کاروں کا اعتماد جیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ملک کا امرت کال چل رہا ہے اور ہم سب ریاستیں مل کر ملک کی ترقی کے لیے آگے آ رہی ہیں۔ قومی ندی جوڑو مہم ہو یا آبپاشی کے منصوبے، ہم اپنی پڑوسی ریاستوں کے ساتھ مل کر ہر چیلنج اور ہر مسئلے کا مثبت حل تلاش کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے سرمایہ کاروں سے مخاطب ہو کر کہا کہ مدھیہ پردیش بے پناہ امکانات اور لامحدود مواقع کی ریاست ہے۔ مدھیہ پردیش کی ثقافت ہی ایسی ہے کہ ایک بار جو یہاں آتا ہے، وہ واپس نہیں جاتا۔ یہاں آ کر آپ کبھی مایوس نہیں ہوں گے، اس لیے مدھیہ پردیش تشریف لائیے، حکومت کی صنعت دوست پالیسیوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیے، بغیر کسی ہچکچاہٹ کے سرمایہ کاری کیجیے اور اپنا کاروبار چار گنا بڑھا کر مدھیہ پردیش سمیت ملک کی ترقی میں اپنا تعاون پیش کیجیے۔
انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش گرین مینوفیکچرنگ حب بننے کی سمت میں بھی تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ریاست میں شمسی اور پون توانائی کے وسیع امکانات کو بروئے کار لاتے ہوئے ماحول دوست توانائی پر مبنی صنعتی ترقی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ وافر اور شفاف توانائی کی دستیابی مستقبل میں ماحول دوست اور مسابقتی مینوفیکچرنگ کو نئی رفتار عطا کرے گی۔ ریاستی حکومت صنعتوں کے لیے درکار توانائی، اراضی اور بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ کلین انرجی پر مبنی سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہی ہے۔ اس سے مدھیہ پردیش کو ملک اور دنیا کی نئی گرین اکانومی میں نمایاں مقام حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں ٹیکسٹائل و گارمنٹس، فارماسیوٹیکلز، آٹوموبائل، انجینئرنگ، الیکٹرانکس، سیمی کنڈکٹر، ڈیٹا سینٹر، فوڈ پروسیسنگ اور قابلِ تجدید توانائی جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں۔ ریاست میں قائم کیے جا رہے جدید صنعتی پارکس ان شعبوں کے سرمایہ کاروں کو ضروری سہولیات فراہم کرنے کی سمت میں اہم پیش رفت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایس ایم ایز، اسٹارٹ اپس اور بڑی صنعتوں کے لیے سازگار ماحول تیار کیا جا رہا ہے۔ ریاست کی صنعتی پالیسی کا مقصد مختلف حجم اور شعبوں کے کاروباری اداروں کو ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے، جہاں وہ مقامی وسائل اور عالمی منڈیوں دونوں سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ سرمایہ کاروں کے لیے سنگل ونڈو سسٹم، ڈیجیٹل طریقہ کار، ادارہ جاتی اصلاحات اور مقررہ مدت کے اندر منظوریوں کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ سرمایہ کاری کی تجاویز کے فوری نمٹارے اور پروجیکٹس پر بر وقت عمل درآمد کے لیے حکومت مسلسل طریقہ کار کو آسان بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا: ’’ہم چاہتے ہیں کہ سرمایہ کار مدھیہ پردیش کو محض ایک سرمایہ کاری کا مقام نہ سمجھیں، بلکہ اپنی ترقی کے طویل مدتی شراکت دار کے طور پر دیکھیں۔ حکومت سرمایہ کاروں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کے لیے پرعزم ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش کا جغرافیائی محلِ وقوع ریاست کو ملک کی اہم صنعتی اور صارفی منڈیوں سے جوڑتا ہے۔ سڑک، ریل اور فضائی رابطوں کی توسیع کے ساتھ لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کیا جا رہا ہے۔ بہتر کنیکٹیویٹی کی بدولت ریاست میں تیار ہونے والی مصنوعات کو ملک کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچانے میں آسانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش کی یہ صلاحیت ریاست کو عالمی کمپنیوں کی سپلائی چین اور مینوفیکچرنگ نیٹ ورک میں نمایاں مقام دلانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت مینوفیکچرنگ کے ساتھ ساتھ برآمدی صلاحیت کو بڑھانے پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکلز، زرعی مصنوعات، انجینئرنگ اور دیگر تیار کردہ اشیاء کو عالمی بازاروں تک پہنچانے کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’خوشحال مدھیہ پردیش 2047‘ اور ’وکست بھارت 2047‘ کے ہدف کے حصول میں صنعتی ترقی، روزگار کی فراہمی، برآمدات میں اضافہ اور نجی سرمایہ کاری کا کلیدی کردار ہے۔ مدھیہ پردیش ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے اپنی صنعتی صلاحیتوں کو مسلسل وسعت دے رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا: ’’مدھیہ پردیش کی شناخت اب محض قدرتی وسائل اور زرعی ریاست کے طور پر نہیں، بلکہ جدید صنعت، گرین انرجی، ٹیکنالوجی، اختراع اور عالمی سرمایہ کاری کے نئے مرکز کے طور پر بھی بن رہی ہے۔ ہم مدھیہ پردیش کو ایسی ریاست بنانا چاہتے ہیں جہاں سرمایہ کاری آئے، صنعتیں قائم ہوں، نوجوانوں کو روزگار ملے اور ریاست کی معیشت نئی بلندیوں کو چھوئے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں بڑے پیمانے کی صنعتوں کے ساتھ ساتھ اسٹارٹ اپس، ایم ایس ایم ایز اور نئے کاروباری اداروں کے لیے بھی وسیع مواقع دستیاب ہیں۔ حکومت سرمایہ کاروں کے ساتھ مسلسل رابطے اور شراکت داری کے ذریعے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پرعزم ہے۔
وزیر اعلیٰ نے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا: ’’مدھیہ پردیش آپ کی سرمایہ کاری، آپ کی صنعت اور آپ کے خوابوں کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ آئیے، مدھیہ پردیش کے ساتھ مل کر صنعتی ترقی، روزگار اور خوشحالی کے ایک نئے باب کا آغاز کریں۔‘‘
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن