
نئی دہلی، 22 اگست (ہ س)۔ دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا میں ہفتے کے روز ایک ادبی و ثقافتی تقریب کے دوران دو کتابوں کی رونمائی کی گئی۔
ان دو اہم کتابوں میں ’’ڈیفنڈرز آف اکھنڈ بھارت‘‘ (مصنفین: ڈاکٹر اشوک اپادھیائے اور ڈاکٹر شوبھا اپادھیائے) اور ’’سولہ سنسکار آف سناتن دھرم‘‘ (مصنف: ڈاکٹر شوبھا اپادھیائے) شامل ہیں۔ ان کتابوں کا بنیادی مقصد نوجوان نسل کو بھارت کے تہذیبی ورثے کو سمجھنے، اس کا احترام کرنے اور اسے آگے بڑھانے کی ترغیب دینا ہے۔
اپنے مشترکہ خطاب میں مصنفین نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی عظمت صرف اس کی فوجی طاقت میں نہیں بلکہ اس کی ثقافتی اقدار اور تہذیبی تسلسل میں بھی مضمر ہے۔
ان کتابوں کے پیغام کو موجودہ دور میں انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے مقررین نے کہا، ’’ہتھیار قوم کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں، جبکہ سنسکار اس کی روح کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘
ان کتابوں میں یہ بھی تجزیہ کیا گیا ہے کہ سیاسی اتھل پتھل اور متعدد تاریخی تبدیلیوں کے باوجود ہندوستانی تہذیب 5,000 سال سے زائد عرصے سے کس طرح اور کیوں مسلسل قائم رہی ہے۔
اس تقریب کی صدارت اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار دی آرٹس (آئی جی این سی اے) کے صدر اور ’پدم بھوشن‘ رام بہادر رائے نے کی۔ اس موقع پر مرکزی وزیر ٹیکسٹائل گری راج سنگھ بطور مہمانِ خصوصی، راجیہ سبھا کے رکن اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی ترجمان ڈاکٹر سدھانشو تریویدی بطور مہمانِ مقرر، کشابھاؤ ٹھاکرے یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر بلدیو بھائی شرما، بی جے پی کے سینئر رہنما اور سابق قومی نائب صدر شیام جاجو اور پربھات پرکاشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر پربھات کمار بھی موجود رہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد