
نئی دہلی، 22 اگست (ہ س)۔ کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے مرکزی حکومت کے انڈسٹریل ریلیشنز کوڈ 2020 کی سخت نکتہ چینی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون مزدوروں کے لیے ضروری حفاظتی دفعات کو کمزور کرتا ہے۔ جے رام رمیش نے سپریم کورٹ کے 20 اگست کے ’اسٹیٹ آف اتر پردیش بنام جے بیر سنگھ‘ معاملے میں دیے گئے 5:4 کے فیصلے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’انڈسٹری‘ کی تعریف کے حوالے سے عدالت کی نئی تشریح مزدور تعلقات میں بے یقینی پیدا کر سکتی ہے۔
جے رام رمیش نے ایکس پر کہا کہ سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے میں فروری 1978 کے تاریخی ’بنگلور واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ بنام اے راجپا‘ معاملے میں طے شدہ ٹرپل ٹیسٹ کی نئے سرے سے تشریح کا ایک ’قیاس‘ (ہائپوتھیسس) پیش کیا گیا ہے۔ ’انڈسٹری‘ کی تشریح کا براہِ راست اثر اس بات پر پڑتا ہے کہ کون ’مزدور‘ کے زمرے میں آئے گا اور کسے لیبر قوانین کا تحفظ حاصل ہوگا۔
رمیش نے کہا کہ سال 1978 کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے کسی سرگرمی کو ’انڈسٹری‘ ماننے کے لیے تین بنیادی عناصر طے کیے تھے۔ ان میں منظم سرگرمی، آجر اور ملازم کے درمیان تعاون اور انسانی ضروریات و خواہشات کو پورا کرنے کے لیے اشیاء کی پیداوار یا خدمات کی فراہمی اور تقسیم شامل تھی۔ اس فیصلے میں منافع کمانے کے مقصد کو بھی حتمی نہیں مانا گیا تھا اور رفاہی اداروں نیز عوامی اداروں کی سرگرمیاں بھی اس کے دائرے میں آ سکتی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ محض بنیادی خود مختارانہ کارروائیوں، جیسے عدلیہ، امن و امان اور دفاع کو اس دائرے سے باہر رکھا گیا تھا۔ ان کے مطابق، تقریباً پانچ دہائیوں تک یہ ٹرپل ٹیسٹ ترمیم شدہ صنعتی تنازعات ایکٹ، 1947 کے تحت ’انڈسٹری‘ کی شناخت کی جامع اور مستحکم بنیاد بنا رہا۔
رمیش نے کہا کہ 2026 کا اکثریتی فیصلہ اس نقطۂ نظر کو دو اہم طریقوں سے محدود کرتا ہے۔ پہلا، کسی سرگرمی میں تجارت یا کاروبار جیسا ’واضح تجارتی کردار‘ ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے، جبکہ یہ شرط پرانے ٹرپل ٹیسٹ میں نہیں تھی۔ دوسرا، حاکمانہ امور کے استثنیٰ کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے، جس سے حکومت کی مزید سرگرمیوں کو ’انڈسٹری‘ کی تعریف سے باہر کیے جانے کا امکان بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ یہ نئی تعریف پرانے صنعتی تنازعات ایکٹ کے تحت مکمل ہو چکی یا زیرِ التوا کارروائیوں کو متاثر نہیں کرے گی اور نہ ہی نئے انڈسٹریل ریلیشنز کوڈ کی تشریح کو کنٹرول کرے گی۔ اس کے باوجود رمیش نے خدشہ ظاہر کیا کہ فیصلے میں درج یہ ’ہائپوتھیسس‘ مستقبل میں قانونی چارہ جوئی اور قانونی بے یقینی کو جنم دے سکتی ہے، خاص طور پر لیبر کورٹس اور صنعتی ٹربیونلز کے روبرو۔
جے رام رمیش نے کہا کہ اس سے عملی طور پر ’انڈسٹری‘ کی تنگ تعریف کے رائج ہونے کی گنجائش بن سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انڈسٹریل ریلیشنز کوڈ میں مرکزی حکومت کو پہلے سے ہی اداروں کے اضافی زمروں کو قانون کے دائرے سے باہر کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
انہوں نے سپریم کورٹ کی جسٹس بی وی ناگرتنا کے اختلافی نوٹ کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بنگلور واٹر سپلائی معاملے میں قائم ٹرپل ٹیسٹ پر نظرِ ثانی کی ضرورت کو مسترد کیا ہے۔ رمیش کے مطابق، جسٹس ناگرتنا نے عدالتی استحکام کے مفاد میں قائم شدہ قانون کو غیر مستحکم کرنے سے خبردار کیا اور کہا کہ پرانے قانون کے تحت تیار کردہ عدالتی نظائر نئے کوڈ کی تشریح میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
رمیش نے کہا کہ اگست 2026 کا اکثریتی فیصلہ ایسے وقت میں مزدور تعلقات میں بے یقینی پیدا کرتا ہے، جب صنعتی امن کے لیے وضاحت ناگزیر ہے۔ کھلی معیشت میں نجی شعبے کی جانب سے خدمات کا کردار بڑھ رہا ہے اور ایسے میں ’انڈسٹری‘ کی جامع تعریف کو محدود کرنے والا کوئی بھی قدم مزدوروں کے تحفظ کو کمزور کر سکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن