
نئی دہلی، 22 اگست (ہ س)۔وندے ماترم کے مسئلہ پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کانگریس پارٹی پر سخت حملہ کیا ہے۔ بی جے پی نے کانگریس پارٹی پر حب الوطنی کا لبادہ اوڑھ کر خوشامد کی سیاست کرنے کا الزام لگایا ہے۔ بی جے پی نے 19 اگست کو کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں منظور کی گئی قرارداد پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
بی جے پی ہیڈکوارٹر میں ہفتہ کو منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں ایم پی ڈاکٹر سمبت پاترا نے کہا کہ کانگریس پارٹی کی طرف سے منظور کی گئی حالیہ قرارداد 1937 کے کلکتہ میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کے ذریعہ وندے ماترم کے چھ میں سے صرف دو بند کو گانے کے فیصلے کی یاد دلاتی ہے۔ انہوں نے کانگریس سے سوال کیا کہ وندے ماترم کے مکملگیت اس کا موقف کیا ہے۔
کانگریس کے دفتر میں 15 اگست کو وندے ماترم گانے کے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے سمبت پاترا نے کہا کہ سوشل میڈیا پر نشرہونے والی ایک ویڈیو میں سونیا گاندھی کو وندے ماتر کے دو بند کے بعد ”اسٹاپ، اسٹاپ“ کہتے ہوئے سنا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وندے ماترم صرف ایک گیت نہیں ہے بلکہ تحریک آزادی، قومی جذبے اور ہندوستان کے فخر کی علامت ہے۔ وندے ماترم کے 15سال مکمل ہونے کے موقع پر ملک بھر میں اس کے تئیں احترام اور جذباتی تعلق دیکھنے کو مل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے قومی صدر نتن نوین کی جانب سے اپنی نئی ٹیم کا اعلان کرنے کے بعد منعقدہ پہلی عہدیداروں کی میٹنگ میں وندے ماترم کے اعزاز میں ایک قرارداد منظور کی گئی۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور این ڈی اے حکومت کی قیادت میں لال قلعہ احاطے میں وندے ماترم کے تمام چھ بند گانا قوم کے جذبے کے احترام کا پیغام ہے۔ ملک اب کانگریس پارٹی کی خوشامد کی سیاست کو سمجھ چکا ہے اور عوام اس کا جواب دیں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد