
گوہاٹی، 22 اگست (ہ س)۔ آسام کے کئی حصوں میں پانی کم ہونے کے ساتھ حالات بہتر ہو رہے ہیں، لیکن شیو ساگر، گولا گھاٹ، جورہاٹ، نگاوں، دھیماجی اور کچھاڑ اضلاع میں سیلاب کا بحران اور اس کا اثر اب بھی برقرار ہے۔ ان اضلاع میں سیلاب سے 73 گاوں کے 15,512 شہری اب بھی متاثر ہیں۔ انتظامیہ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں راحت اور بچاو کے کاموں میں سرگرم ہیں۔
آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایس ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق تمام ندیاں خطرے کے نشان سے نیچے بہہ رہی ہیں۔ اس بار کے سیلاب میں جان گنوانے والے افراد کی تعداد 106 تک پہنچ گئی ہے۔ سیلاب سے سب سے زیادہ نقصان شیو ساگر، چرائے دیو، جورہاٹ اور گولا گھاٹ اضلاع میں ہوا ہے۔ موجودہ میں سیلاب کی صورتحال کل 6 اضلاع میں برقرار ہے۔ متاثرہ اضلاع میں شیو ساگر، دھیماجی، گولا گھاٹ، جورہاٹ، نگاوں اور کچھاڑ شامل ہیں۔ سیلاب سے 6 اضلاع کے 13 ریونیو سرکلز کے کل 73 گاوں متاثر ہیں۔ موجودہ وقت میں ریاست کی کل 15,512 آبادی اب بھی متاثر ہے اور 6,299 ہیکٹر زرعی اراضی زیرِ آب ہے۔
ریاستی حکومت نے سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے اب بھی کل 5 ریلیف کیمپوں اور 3 امدادی تقسیم مراکز سمیت کل 8 مراکز کو فعال رکھا ہے۔ ریلیف کیمپوں میں 183 افراد پناہ لیے ہوئے ہیں جبکہ امدادی تقسیم مراکز سے 4,979 غیر کیمپ ساکنان امداد حاصل کر رہے ہیں۔ بدھ کو سیلاب سے متاثرہ مویشیوں کی کل تعداد 9,642 درج کی گئی ہے۔
21 اگست کے اعداد و شمار کے مطابق سیلاب کے پانی سے ضلع شیو ساگر میں مکمل طور پر تباہ شدہ کچے مکانات کی کل تعداد 12 اور مکمل طور پر تباہ شدہ پکے مکانات کی کل تعداد 5 بتائی گئی ہے۔ ضلع شیو ساگر میں جزوی طور پر تباہ شدہ کچے مکانات کی تعداد 10 درج ہوئی ہے جبکہ جزوی طور پر تباہ شدہ پکے مکانات کی کل تعداد 3 ہے۔ تباہ شدہ دیگر جھونپڑیوں کی کل تعداد ضلع شیو ساگر میں 7 ہے۔ وہیں ضلع شیو ساگر میں مویشیوں کے تباہ شدہ دیگر شیڈوں کی کل تعداد بھی 7 ہے۔ سیلاب متاثرہ علاقے میں بدھ کے روز ریاستی حکومت کی جانب سے ایک میڈیکل ٹیم کو تعینات کیا گیا۔
سیلاب متاثرین کے درمیان ریاستی حکومت کی جانب سے 82.892 کوئنٹل چاول، 15.128 کوئنٹل دال، 4.5512 کوئنٹل نمک اور 325.53 لیٹر سرسوں کا تیل بطور امدادی سامان تقسیم کیا گیا۔ مویشیوں کا چارہ یعنی گیہوں کی چوکر بھی 334.3 کوئنٹل تقسیم کی گئی۔
ریاستی حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی متاثرین کی مدد کے لیے مالی اور دیگر امدادی اشیاء بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ ریاستی حکومت کی مختلف وزارتوں اور محکموں کی جانب سے مسلسل جائزہ میٹنگیں منعقد کر کے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وہیں ریاست کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر ہیمنت بسوا سرما نے دہلی میں وزیراعظم اور مرکزی وزراء سے خیر سگالی ملاقات کر کے ریاست کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے ضروری اقدامات کیے جانے کی معلومات بھی فراہم کی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن