
نئی دہلی، 21 اگست (ہ س)۔
مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی ویشنو نے جمعہ کو کہا کہ بھارت میں گزشتہ سال 32 کروڑ موبائل فون تیار کیے گئے۔ موبائل فون کا برآمدی شعبہ بھارت سے برآمد ہونے والی اشیا کی سب سے بڑی کیٹیگری بن گیا ہے۔
ویشنو نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ بھارت میں موبائل فون کی تیاری کا یہ سفر گزشتہ چند برسوں میں تیزی سے آگے بڑھا ہے۔ تقریباً ایک دہائی قبل ملک اپنی ضرورت کے تقریباً تمام موبائل فون درآمد کرتا تھا، لیکن آج بھارت میں استعمال ہونے والے 99 فیصد سے زیادہ موبائل فون ملک میں ہی تیار کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلی آسان نہیں تھی۔ ابتدا میں حکومت اور صنعت کی توجہ موبائل فون کی اسمبلی پر مرکوز تھی۔ اس وقت اسے تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا اور اسے صرف ’اسکرو ڈرائیور ٹیکنالوجی‘ کہا گیا۔ اس کے باوجود حکومت نے اپنی پالیسی پر کام جاری رکھا۔
وزیر نے کہا کہ موبائل فون کی اسمبلنگ سے آگے بڑھتے ہوئے اب بھارت میں مختلف پرزوں کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس کے بعد ان پرزوں کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال اور انہیں تیار کرنے والی مشینوں کی تیاری کی سمت میں بھی ملک آگے بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے شعبے میں اس وقت تقریباً 25 لاکھ افراد کو روزگار حاصل ہے۔ موبائل فون اور الیکٹرانکس کی تیاری تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس سے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
ویشنو نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے موبائل فون مینوفیکچرنگ کے اگلے مرحلے کو منظوری دے دی ہے، جس کا آغاز آج کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے موبائل فون مینوفیکچرنگ کے سفر نے ملک کی پیداواری صلاحیت کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ