
جاپان کے ساتھ اقتصادی اور صنعتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے اترپردیش تیار ہے: وزیر اعلیٰ یوگی
۔ سیمی کنڈکٹر شعبے میں تعاون کے لیے جاپانی ٹیم آئے گی یوپی، نئی ٹیکنالوجی میں شراکت داری کو ملے گی وسعت
لکھنو، 21 اگست (ہ س)۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے جمعہ کے روز ہندوستان میں جاپان کے سفیر اونو کیئیچی نے خیر سگالی ملاقات کی۔ اس دوران اترپردیش اور جاپان کے مابین سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹر، انسانی وسائل کی ترقی، ہنر مندی کی تربیت، روزگار اور سیاحت کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید وسیع کرنے پر معنی خیز گفتگو ہوئی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اترپردیش جاپان کے ساتھ اپنے اقتصادی اور صنعتی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے تیار ہے۔ ریاست میں جاپانی سرمایہ کاروں کے لیے ایم ایس ایم ای سے لے کر بڑی صنعتوں تک وسیع مواقع دستیاب ہیں اور دونوں فریقین کے باہمی تعاون سے ان امکانات کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
ملاقات کے دوران سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں ہندوستان-جاپان تعاون کے حوالے سے خصوصی تبادلۂ خیال ہوا۔ جاپانی وفد نے بتایا کہ جولائی 2026 میں جاپان کے وزیر اعظم تاکائیچی کے دورۂ ہندوستان کے دوران سیمی کنڈکٹر کو جاپان-ہندوستان اقتصادی سیکورٹی تعاون کے پانچ ترجیحی شعبوں میں شامل کیا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں جاپانی صنعت کاروں کی ایک ٹیم ستمبر کے وسط میں سیمی کون انڈیا کے ساتھ ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز کا دورہ کرے گی۔ اترپردیش حکومت کی جانب سے جاپان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی سیمی کنڈکٹر کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔ جاپانی فریق نے سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں امکانات کا مطالعہ کرنے کے لیے اپنی ٹیم کے دورۂ اترپردیش کی بات کہی۔ وزیر اعلیٰ یوگی نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے اس اہم شعبے میں جاپان کی تکنیکی مہارت اور اترپردیش کی صنعتی صلاحیت کے مابین تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جاپانی کمپنیوں کے لیے اترپردیش میں سرمایہ کاری کے شاندار مواقع ہیں۔ ایم ایس ایم ای سے لے کر بڑی صنعتوں تک جاپان کے سرمایہ کاروں کا خیر مقدم ہے۔ ریاست کی وسیع مارکیٹ، بہتر کنیکٹیویٹی، مضبوط صنعتی بنیاد اور تیزی سے فروغ پاتا بنیادی ڈھانچہ جاپانی کمپنیوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہا ہے۔ نوئیڈا میں واقع ’جاپان سٹی‘ اس شراکت داری کا اہم مرکز ہے۔ اس کے آس پاس کے اہم صنعتی کلسٹرز اور شاندار کنیکٹیویٹی کی بدولت سرمایہ کاری کے مزید بڑے امکانات ہیں۔ یاماہا، ڈینسو، این ٹی ٹی ڈیٹا، ٹویو انک اور پیناسونک جیسی جاپانی کمپنیاں اترپردیش میں اپنی موجودگی درج کرا چکی ہیں۔ جاپان سٹی کے قریب کوبوٹا کے ذریعے ٹریکٹر اور تعمیراتی مشینری کی مینوفیکچرنگ کی سمت میں بھی کام کیا جا رہا ہے۔ جے ای ٹی آر او اور جاپان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تعاون سے ریاست میں جاپانی سرمایہ کاری کو مزید وسعت دینے پر بھی بات چیت ہوئی۔
انسانی وسائل کی ترقی کے شعبے میں اترپردیش اور جاپان کے مابین تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر بھی غور کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اترپردیش کے پاس بڑی تعداد میں نوجوان افرادی قوت موجود ہے اور جاپانی صنعتوں کی ضروریات کے مطابق ان کی ہنر مندی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ جاپان کے ٹیکنیکل ٹریننگ پروگرام اور مخصوص ہنر مند ورکر پروگرام کے ذریعے ریاست کے نوجوانوں کو جاپان میں کام کرنے اور بین الاقوامی سطح کا عملی تجربہ حاصل کرنے کے مواقع مل رہے ہیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان ایسے اسکل ڈیولپمنٹ سینٹرز کے قیام میں تعاون کے امکانات پر بات ہوئی، جہاں نوجوانوں کو جاپانی صنعتوں کی ضرورت کے مطابق تکنیکی اور روزگار پر مبنی تربیت دی جا سکے۔ اس سے اسکل ڈیولپمنٹ کو براہِ راست روزگار کے مواقع سے جوڑنے میں مدد ملے گی۔
مینوفیکچرنگ، زراعت اور نرسنگ کیئر جیسے شعبوں میں جاپان میں دستیاب روزگار کے مواقع کے لیے اترپردیش کے نوجوانوں کو تیار کرنے پر بھی تبادلۂ خیال ہوا۔ اسی سلسلے میں مارچ میں آگرہ کے آر بی پی جی کالج میں زرعی شعبے کے تحت جاپان میں روزگار کے مواقع کے لیے منعقدہ روزگار میلے کا ذکر کیا گیا۔ ایمٹی یونیورسٹی اور جاپان کے اباراکی پریفیکچر کے مابین طلبہ کے لیے انٹرن شپ اور تربیتی مواقع فراہم کرنے سے متعلق معاہدے کو بھی دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے افرادی وسائل کے تعاون کی اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ جاپانی زبان، تکنیکی مہارت اور صنعت پر مبنی تربیت کے ذریعے نوجوانوں کے لیے جاپان میں روزگار کے مواقع کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔
سیاحت کے شعبے میں تعاون کے سلسلے میں بھی اہم گفتگو ہوئی۔ جاپانی فریق نے ستمبر میں منعقد ہونے والے ’ٹورازم ایکسپو جاپان 2026‘ میں اترپردیش کی شرکت کی درخواست کی۔ وزیر اعلیٰ نے اترپردیش کی جانب سے اس میں شرکت کی منظوری دی۔ دونوں فریقوں نے اس تقریب کو اترپردیش کے سیاحتی مقامات کو جاپانی سیاحوں اور سیاحتی صنعت کے روبرو پیش کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان سیاحتی تبادلے کو فروغ دینے کا اہم موقع قرار دیا۔ سال 2025 میں 2.19 لاکھ جاپانی شہریوں نے ہندوستان کا سفر کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 12.5 فیصد زیادہ ہے۔ اترپردیش کے بدھ مت سے وابستہ، روحانی، ثقافتی اور تاریخی ورثے کے حامل سیاحتی مقامات میں جاپانی سیاحوں کے لیے وسیع امکانات موجود ہیں۔
میٹنگ میں ہندوستان اور جاپان کے درمیان مشترکہ بودھ اور ثقافتی ورثے کو سیاحتی تعاون کی اہم کڑی کے طور پر اجاگر کیا گیا۔ سارناتھ اور جاپان کے نارا شہر کے درمیان بودھ اور ثقافتی تعلقات دونوں ممالک کے تاریخی روابط کی عکاسی کرتے ہیں۔ سال 2027 میں ہندوستان اور جاپان کے سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 سال مکمل ہوں گے۔ اس موقع کو دونوں ممالک کے درمیان سیاحت، ثقافت اور عوامی سطح کے رابطوں کو مزید مستحکم کرنے کے بہترین موقع کے طور پر دیکھا گیا۔
واضح رہے کہ اترپردیش-جاپان سرمایہ کاری اجلاس کے سلسلے میں اس وقت جاپانی صنعت کاروں کے 200 سے زائد نمائندوں کا وفد اترپردیش کے دورے پر ہے۔ جاپانی سرمایہ کاروں کے ساتھ مختلف شعبوں میں ہونے والی بات چیت کے نتیجے میں متعدد مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط ہوئے ہیں۔ سرمایہ کاری کی ان تجاویز سے تقریباً 10 ہزار روزگار کے مواقع پیدا ہونے کے امکانات ہیں۔
ہندوستھان سماچار
--------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن