بھارت اور جاپان کی نوجوان نسل کا ملن، یوگی آدتیہ ناتھ کی رہائش گاہ پر دوستی اور مستقبل کا پیغام
لکھنؤ، 21 اگست (ہ س)۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی سرکاری رہائش گاہ پر جمعہ کو بھارت اور جاپان کی نوجوان نسل کے درمیان ایک منفرد ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر سفارتی رسم کے بجائے بچوں کی مسکراہٹ، باہمی گفتگو اور دونوں ممالک کی ثقافتوں کے در
بھارت اور جاپان کی نوجوان نسل کا ملن، یوگی آدتیہ ناتھ کی رہائش گاہ پر دوستی اور مستقبل کا پیغام


لکھنؤ، 21 اگست (ہ س)۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی سرکاری رہائش گاہ پر جمعہ کو بھارت اور جاپان کی نوجوان نسل کے درمیان ایک منفرد ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر سفارتی رسم کے بجائے بچوں کی مسکراہٹ، باہمی گفتگو اور دونوں ممالک کی ثقافتوں کے درمیان دوستی کا جذبہ نمایاں رہا۔

اتر پردیش-جاپان سرمایہ کاری اجلاس کے سلسلے میں منعقد خصوصی پروگرام ’اے ڈائیلاگ ود دی فیوچر‘ میں جاپان کے یاماناشی صوبے سے آئے 13 طلبہ اور ان کے فیکلٹی اراکین نے لکھنؤ کے مختلف اسکولوں کے طلبہ کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ پروگرام میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور یاماناشی کے گورنر کوٹارو ناگاساکی بھی موجود تھے۔

وزیر اعلیٰ نے جاپان کے یاماناشی سے آئے طلبہ، فیکلٹی اراکین اور لکھنؤ کے طلبہ کا پرتپاک استقبال کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب کا آغاز جاپانی زبان کے الفاظ ’اوہایو گوزائی ماس‘ سے کیا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 25 کروڑ سے زیادہ آبادی والا اتر پردیش بھارت کی سب سے بڑی ریاست ہے اور یہ ملک کی روحانی و ثقافتی شعور کا ایک اہم مرکز ہے۔ اسے بھارت کا ’ہارٹ لینڈ‘ بھی کہا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس اودھ خطے میں یہ پروگرام منعقد ہورہا ہے، وہیں ایودھیا واقع ہے، جو بھگوان شری رام کی جائے پیدائش ہے۔ جاپانی طلبہ آگرہ میں تاج محل اور متھرا میں بھگوان شری کرشن کی جائے پیدائش کا دورہ کرچکے ہیں، جبکہ انہیں اب وارانسی اور سارناتھ جانے کا بھی موقع ملے گا۔ سارناتھ میں بھگوان بودھ نے گیان حاصل کرنے کے بعد اپنا پہلا خطبہ دیا تھا، جبکہ وارانسی دنیا کے قدیم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔

یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ یہ محض طلبہ کا ایک دوسرے سے ملنا نہیں بلکہ دو ثقافتوں، دو روایات اور دو ممالک کی نوجوان نسل کا ملن ہے۔انہوں نے کہا کہ اگلے سال بھارت اور جاپان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کو 75 سال مکمل ہونے جارہے ہیں۔ ایسے وقت میں دونوں ممالک کے طلبہ مستقبل کے سفیر بن کر باہمی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایک طرف بھارت کی سب سے بڑی نوجوان افرادی قوت رکھنے والے اتر پردیش کے بچے ہیں اور دوسری جانب ٹیکنالوجی، روایت اور عزم کے لیے پہچانے جانے والے جاپان کے بچے ہیں۔ ایک بچہ لکھنؤ کے کسی گاؤں سے آیا ہے تو دوسرا جاپان کے کسی گاؤں سے، زبانیں مختلف ہیں لیکن دونوں اپنے مستقبل کی کہانی لکھ رہے ہیں۔یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ جاپان کی طاقت خود نظم و ضبط، درستگی، معیار، ٹیم ورک اور جدت میں ہے، جبکہ بھارت کی قوت نوجوان طاقت، صلاحیت، تنوع، تخلیقی صلاحیت اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کے جذبے میں ہے۔انہوں نے کہا کہ جب جاپان اور بھارت کی یہ طاقتیں ایک ساتھ آئیں گی تو اس کا فائدہ صرف دونوں ممالک کے طلبہ کو نہیں بلکہ پوری دنیا کو ہوگا اور نئے امکانات کے دروازے کھلیں گے۔

یاماناشی صوبے کے گورنر کوٹارو ناگاساکی نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دونوں ممالک کے طلبہ کو ایک دوسرے سے بات چیت کا موقع فراہم کیا۔ انہوں نے لکھنؤ کے طلبہ کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے جاپانی طلبہ کا پرتپاک استقبال کیا۔گورنر نے کہا کہ دونوں ممالک کو مزید مضبوطی سے جوڑنے کے لیے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ان کے درمیان کیا مماثلتیں اور کیا اختلافات ہیں۔ انہوں نے بھارت کے ’وسودھیو کٹمبکم‘ اور یاماناشی کے اس نظریے کا ذکر کیا، جس میں ایک دوسرے کے لوگوں کو خوشحال بنانے کے ساتھ اپنی خوشحالی کو بھی یقینی بنانے کا جذبہ موجود ہے۔انہوں نے طلبہ سے اپیل کی کہ یہ ملاقات صرف ایک روزہ پروگرام تک محدود نہ رہے بلکہ وہ اپنے بھارتی اور جاپانی دوستوں کے ساتھ اس دوستی کو مستقبل میں بھی آگے بڑھائیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande