
سلی گوڑی، 21 اگست (ہ س)۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کو سلی گوڑی کے دورے کے دوران ملک کی سرحدی سلامتی اور بالخصوص حکمتِ عملی کے لحاظ سے اہم سلی گوڑی کوریڈور کی حفاظت کے حوالے سے مرکزی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی سلامتی سے متعلق جو بھی ضروریات سامنے آئی ہیں، انہیں پورا کرنے کے لیے حکومت پوری طرح پ±رعزم ہے۔
امت شاہ نے سلی گوڑی میں مسلح سرحدی فورس (ایس ایس بی) کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں شرکت کی۔ اس دوران انہوں نے ایس ایس بی کے جوانوں سے ملاقات کی اور ان سے بات چیت بھی کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب انہیں ایس ایس بی کی کسی تقریب میں شرکت کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے ایس ایس بی کو ملک کی خودمختاری اور سلامتی کا ناقابلِ تسخیر محافظ قرار دیا۔
تقریب کے دوران وزیر داخلہ نے سرحدی سلامتی سے متعلق کاموں کے لیے زمین فراہم کرنے میں تاخیر کو لے کر سابقہ ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے مرکزی حکومت 2024 سے 1,129 ایکڑ زمین کا مطالبہ کر رہی تھی، لیکن بار بار درخواست کے باوجود زمین فراہم نہیں کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ اس سلسلے میں سابق وزیر اعلیٰ کو مدعو کیے جانے کے باوجود انہوں نے تقریب میں شرکت نہیں کی۔
اس کے برعکس امت شاہ نے موجودہ وزیر اعلیٰ شبھیندو ادھیکاری کے دورِ حکومت میں انتظامی سطح پر تعاون ملنے کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب ایسی انتظامیہ بنائی گئی ہے جس میں انتظامی منظوری پہلے ملتی ہے اور خط بعد میں آتا ہے۔ تقریب میں انہوں نے سلی گوڑی میں تقریباً 80 ایکڑ زمین پر نئی انتظامی عمارت تعمیر کرنے کا بھی اعلان کیا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک کی سرحدی سلامتی کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا بھی مرکزی حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے لال قلعے میں منعقدہ عظیم الشان وندے ماترم تقریب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی مجموعی سلامتی، بنیادی ڈھانچے اور سرحدوں کو مضبوط بنانے کے لیے مرکزی حکومت ہر ضروری قدم اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی انتظامیہ کے ساتھ بہتر تال میل کے ذریعے آنے والے دنوں میں ملک کی سلامتی کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ