سپریم کورٹ نے سول جج بننے کے لیے 3 سال کی وکالت کی شرط گھٹا کر ایک سال کر دی
نئی دہلی، 21 اگست (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے جج بننے کے لیے ابتدائی امتحان میں شرکت کرنے کے لیے تین سال کے لازمی وکالت کے تجربے کی شرط کو گھٹا کر ایک سال کر دیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے 2-1 کی اکثریت سے فیصلہ دیا کہ جج بننے کے امت
سپریم کورٹ نے سول جج بننے کے لیے 3 سال کی وکالت کی شرط گھٹا کر ایک سال کر دی


نئی دہلی، 21 اگست (ہ س)۔

سپریم کورٹ نے جج بننے کے لیے ابتدائی امتحان میں شرکت کرنے کے لیے تین سال کے لازمی وکالت کے تجربے کی شرط کو گھٹا کر ایک سال کر دیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے 2-1 کی اکثریت سے فیصلہ دیا کہ جج بننے کے امتحان میں منتخب ہونے والے امیدواروں کو جوڈیشل اکیڈمی میں تربیت حاصل کرنے کے علاوہ ایک سال کی کلرک شپ بھی کرنی ہوگی۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ مئی 2025 اور مارچ 2027 کے درمیان منعقد ہونے والے امتحان میں شرکت کرنے والے امیدواروں کو اپنے سابقہ تجربے کا فائدہ ملے گا۔ واضح رہے کہ 20 مئی 2025 کو سپریم کورٹ نے جج بننے کے لیے تین سال تک وکالت کے تجربے کی لازمی شرط بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسی حکم کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

سینئر وکیل کولن گونزالویس نے دائر درخواست میں کہا کہ سپریم کورٹ نے پانچ لا کمیشن کی رپورٹس پر غور نہیں کیا، جن میں متفقہ طور پر جج بننے کے لیے وکیل کی حیثیت سے تین سال کی پریکٹس کی شرط کو مسترد کیا گیا تھا۔ درخواست میں دوسرے جوڈیشل پے کمیشن کی 2022 کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں ایسی کوئی پابندی عائد کرنے سے پہلے تمام فریقوں سے مشاورت کرنے پر زور دیا گیا تھا۔

دراصل، ابتدا میں جج کے عہدے پر تقرری کے لیے وکیل کی حیثیت سے تین سال کا تجربہ لازمی تھا، لیکن 2002 میں سپریم کورٹ نے تین سال کے تجربے کی شرط ختم کرتے ہوئے نئے لا گریجویٹس کے لیے بھی جج کے عہدے پر تقرری کے لیے درخواست دینے کا راستہ کھول دیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande