منی لانڈرنگ معاملے میں رابرٹ واڈرا سمیت 11 ملزمان کے خلاف 23 ستمبر کو سماعت ہوگی
نئی دہلی، 21 اگست (ہ س)۔ راؤز ایونیو کورٹ گروگرام کے شکوہ پور میں زمین کے سودے سے متعلق منی لانڈرنگ معاملے میں رابرٹ واڈرا اور 11 دیگر ملزمان کے خلاف درج معاملے کی 23 ستمبر کو سماعت کرے گی۔ عدالت نے 15 اپریل کو واڈرا کو بطور ملزم سمن جاری کرنے ک
Rouse-Avenue-Court-Robert-vadra-money-laundering-c


نئی دہلی، 21 اگست (ہ س)۔ راؤز ایونیو کورٹ گروگرام کے شکوہ پور میں زمین کے سودے سے متعلق منی لانڈرنگ معاملے میں رابرٹ واڈرا اور 11 دیگر ملزمان کے خلاف درج معاملے کی 23 ستمبر کو سماعت کرے گی۔

عدالت نے 15 اپریل کو واڈرا کو بطور ملزم سمن جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔ واڈرا نے سمن کے حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا، لیکن ہائی کورٹ نے سمن پر روک لگانے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت نے رابرٹ واڈرا کے علاوہ ستیہ نند یاجی، کیول سنگھ ورک، میسرز اسکائی لائٹ ہاسپیٹلیٹی پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرز اسکائی لائٹ ریئلٹی پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرز اسکائی لائٹ ریئل ارتھ اسٹیٹس پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرز بلیو بریز ٹریڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرز آرٹیکس ، میسرز نارتھ انڈیا آئی ٹی پارکس پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرز لمبودر آرڈ انٹرپرائزز انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ اور میسرز ایس جی وائی پراپرٹیز پرائیویٹ لمیٹڈ کو سمن جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے تمام ملزمان کے خلاف منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ کی دفعہ 3 اور 4 کے تحت الزامات کا نوٹس لیا۔ عدالت نے 4 اپریل کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ سماعت کے دوران رابرٹ واڈرا نے دلیل دی کہ ان کے خلاف منی لانڈرنگ کا کوئی کیس نہیں بنایا گیا۔ رابرٹ واڈرا کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے دلیل دی تھی کہ عدالت کو ای ڈی کی طرف سے دائر چارج شیٹ کا نوٹس نہیں لینا چاہئے۔

اس معاملے کا آغاز 2008 میں شروع ہواتھا۔ گروگرام کے شکوہ پور میں زمین کا سودا ہواتھا۔ اسکائی لائٹ ہاسپٹلٹی نے ساڑھے تین ایکڑ زمین محض 7.5 کروڑ روپے میں خریدی۔ واڈرا اس کمپنی میں ڈائریکٹر تھے۔ یہ زمین اومکاریشور پراپرٹیز سے خریدی گئی تھی۔ اس زمین کی ملکیت صرف 24 گھنٹے کے اندر واڈرا کی کمپنی کو منتقل کر دی گئی۔ 2012 میں، اسکائی لائٹ ہاسپیٹیلیٹی نے وہی زمین ڈی ایل ایف کو 58 کروڑ روپے میں فروخت کر دی، جس کے نتیجے میں کمپنی کو کافی منافع ہوا۔ اس معاملے میں 2018 میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande