
نئی دہلی، 21 اگست(ہ س)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے باہر راہل گاندھی کے احتجاج پر شدید ان کو شدیدتنقید کا نشانہ بنایاہے۔ بی جے پی کے مطابق سپریم کورٹ نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے پہلے ہی ایک اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس پر راہل گاندھی دھرنا دے رہے ہیں۔ راہل گاندھی پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے باہر بغیر پیشگی اجازت کے دھرنے پر بیٹھ گئے حالانکہ پولیس نے پہلے واضح کیا تھا کہ اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور تفتیش جاری ہے۔
جمعہ کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے کہا کہ اس معاملے میں تشکیل دی گئی کمیٹی کی سربراہی سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کر رہے ہیں۔ اس میں دو دیگر جج، ایک سابق سی بی آئی ڈائریکٹر اور ایک اور سینئر افسربھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گولی چلائی گئی یا نہیں، یہ بھی اسی کمیٹی کے ذریعے تحقیقات کا معاملہ ہے۔ راہل گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا، کیا راہل گاندھی کو قانون کی حکمرانی کا کوئی احترام نہیں ہے؟ کیا وہ اپنی مرضی سے کہیں بھی جائیں گے اور دھرنا دیں گے اور انتشار پھیلائیں گے؟
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے راہل گاندھی پر انتشار کی سیاست کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ وہ پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے باہر بغیر اجازت یا پیشگی اطلاع کے دھرنا دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے راہل گاندھی کو مطلع کیا ہے کہ جس واقعے کا وہ حوالہ دے رہے ہیں اس میں پہلے ہی ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے اور معاملے کی تحقیقات جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلی سطحی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی