
حیدرآباد، 21 اگست (ہ س)۔
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی سالانہ آل انڈیا کوآرڈینیشن میٹنگ 19 سے 21 اگست تک وشاکھاپٹنم کے گڈیلووا واقع وگیان وہار اسکول میں منعقد کی گئی۔ سنگھ کے سرسنگھ چالک ڈاکٹر موہن بھاگوت اور سرکاریہ واہ دتاتریہ ہوسبالے کی قیادت میں ہونے والی اس میٹنگ میں قومی امور، باہمی تال میل اور سماجی اصلاحات پر تبادلہ خیال کے لیے سنگھ سے متاثر 32 تنظیموں کے 306 نمائندوں نے شرکت کی۔
اختتام سے قبل منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنگھ کے اکھل بھارتیہ پرچار پرمکھ سنیل آمبیکر نے تین روزہ اجلاس میں زیر بحث آنے والے موضوعات کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ سنگھ کی کوآرڈینیشن میٹنگ میں جین زی تحریک سے لے کر آبادیاتی عدم توازن اور نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے منشیات کے رجحان تک مختلف امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور خاندانی بیداری جیسے اہم مسائل پر بھی سنگھ کے نظریے سے متاثر اداروں کے نمائندوں نے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
میٹنگ میں یہ بات سامنے آئی کہ نوجوانوں میں کافی توانائی ہے، اسے ملک کی ترقی کے لیے مثبت طور پر کس طرح استعمال کیا جائے، اس کے لیے سنگھ سے وابستہ نوجوانوں کی تنظیموں، اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد اور بجرنگ دل کو خصوصی لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک کے کچھ حصوں میں آبادی کے عدم توازن سے پیدا ہونے والے مسائل پر بھی غور کیا گیا۔ یہ بات سامنے آئی کہ بعض علاقوں میں ایک مخصوص برادری کی آبادی میں غیر متوقع اضافے سے سماجی ہم آہنگی متاثر ہو رہی ہے۔ حکومت اور رضاکارانہ تنظیموں کو اس سمت میں آگے بڑھ کر پہل کرنی چاہیے۔
سنگھ نے سنت روی داس کی برسی کے موقع پر منعقد ہونے والے پروگراموں کا جائزہ لیا اور سماجی ہم آہنگی کے نقطہ نظر سے اسے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے آئندہ بھی اسے جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ سنگھ کے صد سالہ سال کے موقع پر منعقدہ ’پنچ پریورتن‘ مہم کا بھی جائزہ لیا گیا اور خاندانی بیداری کے کام کو مزید رفتار دینے پر اتفاق کیا گیا۔ سنگھ کی ذیلی تنظیموں کے سربراہان، تنظیمی جنرل سکریٹری وغیرہ بھی اجلاس میں شامل ہوئے، جن میں بی جے پی کے قومی صدر نتن نوین، وشو ہندو پریشد کے آلوک کمار سمیت دیگر اہم نمائندے شامل تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ