ملک بھر کی جیلوں میں قید سکھوں کی رہائی کا مطالبہ، پنجاب بند کو ملی جلی حمایت
آنندپور صاحب، امرتسر، لدھیانہ، جالندھر میں احتجاجی مارچ نکالا، کئی مقامات پر زبردستی بند کروائے بازار چندی گڑھ، 21 اگست (ہ س)۔ ملک بھر کی جیلوں میں قید سکھوں کی رہائی کے مطالبے کو لے کر جمعہ کے روز قومی انصاف مورچہ کی بند کی کال کو ریاست میں
پنجاب بند کے دوران خالی پڑا لدھیانہ کا بس اڈا


بند کے دوران پٹیالہ میں سنسان بازار


بند کے دوران جالندھر میں تعینات پولیس فورس


آنندپور صاحب، امرتسر، لدھیانہ، جالندھر میں احتجاجی مارچ نکالا، کئی مقامات پر زبردستی بند کروائے بازار

چندی گڑھ، 21 اگست (ہ س)۔

ملک بھر کی جیلوں میں قید سکھوں کی رہائی کے مطالبے کو لے کر جمعہ کے روز قومی انصاف مورچہ کی بند کی کال کو ریاست میں ملا جلا تعاون ملا۔ ریاست کے کئی حصوں میں 7 گھنٹے تک بازار بند رہے، لیکن صنعتوں اور سرکاری دفاتر میں معمول کے مطابق کام کاج ہوا۔

ریاست کے بیشتر حصوں میں جمعہ کو نجی اسکول اور تعلیمی ادارے بند رہے۔ صبح 11 بجے سے دوپہر 2 بجے تک بند کا پورا اثر نظر آیا۔

قومی انصاف مورچہ کے ارکان نے جگہ جگہ احتجاجی مارچ نکالا۔ کھرڑ-چنڈی گڑھ ہائی وے کو بند کر دیا گیا تھا۔ یہاں ڈیوٹی پر جانے والے لوگوں کی مورچہ کے ارکان سے بحث بھی ہوئی۔ موہالی میں نہنگوں نے پیزا شاپ بند کروائی۔ اس کے ساتھ امرتسر، پٹیالہ اور لدھیانہ میں قومی انصاف مورچہ کے ارکان نے کھلی دکانوں کو بند کروایا۔ اس سے پٹیالہ میں ماحول کشیدہ ہو گیا تھا، جس پر پولیس موقع پر پہنچی۔

فریدکوٹ میں مظاہرین نے عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی ڈمپی ڈھلوں کی بس کو روک دیا تھا۔ بس روکے جانے کے بعد موقع پر پولیس پہنچی اور اسے واپس بس اسٹینڈ بھیج دیا۔ امرتسر اور موہالی میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔

جالندھر کے مقصوداں کی سروس روڈ پر راستہ روکنے کے معاملے پر جتھہ بندیوں اور کار سوار کے درمیان تنازعہ ہو گیا۔ کار سوار اسپتال جانے کی بات کہہ رہا تھا۔ اس نے اسپتال کی رسید دکھاتے ہوئے بتایا کہ اس کی بیوی کا ڈائیلاسز ہو رہا ہے، لیکن دونوں فریقوں میں بحث بڑھ گئی۔ جھگڑے کے دوران دونوں طرف سے تھپڑ چلے۔ اسی دوران ایک مشتعل سکھ شخص نے اپنے ساتھی سے نیزہ (برچھا) چھین کر حملہ کرنے کی کوشش کی۔

امرتسر کے گولڈن گیٹ سے لے کر ہال گیٹ اور دیگر اہم بازار بند رہے۔ دربار صاحب اور آس پاس کی مارکیٹ بھی بند رہی۔ بند کی حمایت کرتے ہوئے شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی نے آج اپنے تمام دفاتر اور تعلیمی ادارے بند رکھے۔ امرتسر میں کئی مقامات پر مظاہرے کے دوران مظاہرین اور عام عوام کے درمیان بحث بھی ہوئی۔

چنڈی گڑھ-لدھیانہ ہائی وے کو دوپہر 2 بجے تک بند رکھا گیا۔ کھرڑ-چندی گڑھ مین روڈ بند ہونے کی وجہ سے ہماچل، جموں اور پنجاب سے آنے والی بسیں کھرڑ سے آگے نہیں بڑھ سکیں۔ مظاہرین نے صرف ایمرجنسی گاڑیوں کو آگے جانے دیا۔ لدھیانہ میں زیادہ تر بازار بند رہے۔ شہر کی اہم مارکیٹ چوڑا بازار میں کچھ دکانیں کھلیں تو پولیس نے انہیں بند کروا دیا۔ قومی انصاف مورچہ کے حامیوں نے لاڈووال ٹول پلازہ کے قریب نیشنل ہائی وے پر چکہ جام کیا، جس کی وجہ سے لوگوں کو ٹریفک جام میں پھنسنا پڑا۔ اس کے علاوہ دگری میں نہر والے پل پر بھی چکہ جام کیا گیا۔ سمرالہ چوک اور شہر کے کئی علاقوں میں سکھ تنظیموں نے دھرنا دے کر حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ شہر میں بیشتر نجی اسکول اور کالجز بند رہے، جبکہ سرکاری اسکول کھلے رہے۔

پنجاب بند کا پٹھان کوٹ میں کوئی خاص اثر دیکھنے کو نہیں ملا۔ شہر کے تمام اہم بازار صبح تقریباً 10 بجے عام دنوں کی طرح کھل گئے۔ البتہ سرکاری اسکولوں کے ساتھ ساتھ کچھ نجی اسکول بھی بند رہے۔ پٹھان کوٹ کے بس اسٹینڈ پر عام دنوں کے مقابلے کم بھیڑ نظر آئی۔ پٹھان کوٹ-امرتسر نیشنل ہائی وے پر واقع لدپالواں ٹول پلازہ پر مظاہرین نے دھرنا دیا۔ مظاہرے کے سبب ہائی وے کے دونوں طرف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ پنجاب بند کے باعث ہائی وے پر آمد و رفت متاثر ہونے سے بڑی تعداد میں گاڑیاں پھنس گئیں۔ پولیس اور انتظامیہ نے ٹریفک کو سنبھالتے ہوئے گاڑیوں کو متبادل راستوں سے روانہ کیا۔

قومی انصاف مورچہ کی کال پر شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی اور شرومنی اکالی دل نے بندی سکھوں کی رہائی کے مطالبے کو لے کر آنندپور صاحب شہر میں احتجاجی مارچ نکالا۔ اس دوران مظاہرین نے مرکزی حکومت اور پنجاب کی ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا۔ رہنماوں نے کہا کہ جن سکھ قیدیوں نے اپنی سزائیں پوری کر لی ہیں، انہیں بھی آج تک رہا نہیں کیا گیا ہے، جو انصاف اور انسانی حقوق کے اصولوں کے خلاف ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande