ملک بھر کی جیلوں میں قید سکھوں کی رہائی کے مطالبے پر پنجاب بند کا ملا جلا اثر
ملک بھر کی جیلوں میں قید سکھوں کی رہائی کے مطالبے پر پنجاب بند کا ملا جلا اثر چنڈی گڑھ، 21 اگست (ہ س)۔ ملک بھر کی جیلوں میں قید سکھوں کی رہائی اور سابق وزیراعلیٰ بے انت سنگھ کے قاتل جگتار سنگھ ہوارا کی پیرول کا مطالبہ کرنے والے قومی انصاف مورچہ
پنجاب کے ڈیرا بسی میں بند پڑا بازار


ملک بھر کی جیلوں میں قید سکھوں کی رہائی کے مطالبے پر پنجاب بند کا ملا جلا اثر

چنڈی گڑھ، 21 اگست (ہ س)۔

ملک بھر کی جیلوں میں قید سکھوں کی رہائی اور سابق وزیراعلیٰ بے انت سنگھ کے قاتل جگتار سنگھ ہوارا کی پیرول کا مطالبہ کرنے والے قومی انصاف مورچہ کی کال پر جمعہ کے روز پنجاب میں بند کا وسیع اثر دیکھنے کو ملا۔ صبح 7 بجے سے شروع ہونے والے بند کے سبب ریاست کے بیشتر اضلاع کے بازاروں میں سناٹا چھایا ہوا ہے۔

قومی انصاف مورچہ کا مرکزی مرکزموہالی ہے۔ یہاں سال 2023 سے وائی پی ایس چوک پر دھرنا دیا جا رہا ہے۔ انصاف مورچہ کی کال پر پنجاب بند کے دوران بیشتر اضلاع میں صبح کے وقت بازار نہیں کھلے۔ موہالی سے متصل ڈیرا بسی اور لالو میں بند کا وسیع اثر دیکھنے کو ملا۔ یہاں بازار اور سبزی منڈی وغیرہ مکمل طور پر بند ہیں۔ سیکورٹی کے نقطۂ نظر سے ریاست کے بیشتر نجی اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں آج تعطیل کر دی گئی ہے۔

بس اڈوں سے بسوں کو باہر نکلنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ بند کی شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے حمایت کی ہے۔ موہالی میں ایئرپورٹ روڈ اور وائی پی ایس چوک پر نہنگوں نے مورچہ سنبھال رکھا ہے۔ یہاں معمول کی ڈیوٹی پر جانے والے لوگوں کو روکا گیا تو زبردست ہنگامہ برپا ہوا۔ پٹھان کوٹ، لدھیانہ، جالندھر اور امرتسر میں بھی بند کا وسیع اثر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہاں بس اڈوں کے باہر دھرنا دیا جا رہا ہے۔

قومی انصاف مورچہ کے حامی جگہ جگہ جا کر دکانیں بند کروا رہے ہیں۔ ریاست میں کئی مقامات پر نیشنل ہائی ویز اور اسٹیٹ ہائی ویز کو جام کر دیا گیا ہے۔

کھرڑ-چندی گڑھ ہائی وے پر احتجاج کے دوران ایک نوجوان کو روکا گیا۔ نوجوان کا کہنا تھا کہ اسے امتحان دینے کے لیے آگے جانا ہے۔ دھرنے میں موجود لوگوں کا الزام تھا کہ نوجوان ایک کمپنی کا ایم آر ہے۔ مظاہرین نے اس کے بیگ کی تلاشی لی تو وہ برہم ہو گیا۔ ادھر پٹھان کوٹ میں پنجاب بند کا ملا جلا اثر نظر آ رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande