
نئی دہلی، 21 اگست (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو سیوا تیرتھ میں خلائی شعبے کے 20 ہندوستانی اسٹارٹ اپس کے سی ای او اور بانیان کے ساتھ بات چیت کی۔ بات چیت خلائی شعبے میں ہندوستانی نجی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں، ہندوستانی خلائی ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی عالمی مانگ اور خلائی شعبے میں مستقبل کے امکانات پر مرکوز رہی ۔
وزیراعظم آفس کے مطابق ، میٹنگ میں راکٹ مینوفیکچرنگ، دوبارہ قابل استعمال خلائی جہاز اور لانچ وہیکلز، سیٹلائٹس، خلائی سے متعلقہ الیکٹرانک سسٹمز، نئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے راکٹ انجن کی تیاری، خلائی اور دفاع سے متعلق معلومات، خلائی ملبے کو ہٹانے اور مقامی موسمیاتی معلومات فراہم کرنے والی ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے اسٹارٹ اپس کے سربراہان نے شرکت کی۔
اسٹارٹ اپ سربراہان نے خلائی شعبے میں نجی کمپنیوں کو کام کرنے کی اجازت دینے کے حکومتی فیصلے کی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے صنعت کے لیے بہت سے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دنیا بھر کے کئی ممالک کی کمپنیاں ہندوستانی نجی خلائی کمپنیوں کی تیار کردہ ٹیکنالوجی کو اپنانے اور استعمال کرنے میں دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں۔
وزیر اعظم نے خلائی شعبے کے کاروباری افراد سے کہا کہ وہ اپنی ٹیکنالوجی کے نئے استعمال تلاش کریں اور ایسی ٹیکنالوجیز تیار کرنے پر توجہ دیں جو عام لوگوں کی زندگیوں کو آسان بنا سکیں۔
مودی نے خلائی صنعت اور سماج کی ترقی سے متعلق دیگر شعبوں کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خلائی ملبہ ہٹانے کے لیے ٹیکنالوجی پر کام کرنے والی کمپنیاں ماحولیاتی تنظیموں کے ساتھ تعاون کر سکتی ہیں۔ اسی طرح، زراعت کے لیے خلائی ٹیکنالوجی تیار کرنے والی کمپنیاں زرعی یونیورسٹیوں اور سرکاری محکموں کے ساتھ مل کر کسانوں کو بہتر فیصلے کرنے اور پیداوار بڑھانے میں مدد کر سکتی ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان ایسا ماحول تیار کرے کہ جب دنیا خلائی شعبے کے بارے میں سوچے تو اس کی نظر ہندوستان پر جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا خلائی شعبہ دنیا بھر کے ہنر، کمپنیوں اور سرمایہ کاری کو راغب کرنے کا مرکز بن سکتا ہے۔
انہوں نے خلائی کمپنیوں اور اٹل ٹنکرنگ لیبز کے درمیان تعاون بڑھانے کا مشورہ دیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے بچوں میں کم عمری سے ہی خلا میں تجسس اور دلچسپی پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔
مکالمے میں اسکائی روٹ،اگنی کل کاسموس، پکسیل، دھرو اسپیس، گیلیکس آئی، پیئر سائٹ، بیلا ٹرکس ایئرواسپیس، ڈگنترا، سیٹ شیور، سہورا ٹیکنالوجیز، منستو اسپیش، ایسٹرو بیس، ٹیکمی 2اسپیس، ویوم آئی سی، کاسموسرو اسپیس، آربٹ اے آئی ڈی ایئرواسپیس، اسکائی سرو (ہائی اسپیس)، سیرینڈیپٹی اسپیس، واسر لیبس اور مسٹ ای او کے سربراہان اور بانیان شامل ہوئے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد