
لکھنؤ، 21 اگست (ہ س)۔
اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ کی برسی کے موقع پر جمعہ کو اٹل بہاری واجپئی ایکانا اسٹیڈیم میں منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ اتر پردیش کی عوام کی جانب سے میں بابو جی کے قدموں میں خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ یوگی نے کہا کہ کلیان سنگھ نے بھگوان شری رام کے لیے اپنا اقتدار قربان کر دیا لیکن رام بھکتوں پر گولی نہیں چلائی۔ رام جنم بھومی تحریک کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کلیان سنگھ نے کہا تھا کہ جدوجہد منظور ہے، اقتدار سے دوری بھی منظور ہے، لیکن بھگوان شری رام کی توہین قابل قبول نہیں ہے۔ آج جب ایودھیا میں عظیم الشان رام مندر کو دیکھتے ہیں تو بابو کلیان سنگھ کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مجھے طویل عرصے تک بابو کلیان سنگھ کے ساتھ مختلف پروگراموں میں رہنے کا موقع ملا۔ آج کا دن ’ہندو گورو دیوس‘ ہے۔ بابو جی کی یادیں ہمارے لیے تحریک کا ذریعہ ہیں۔ انسان اپنے اعمال سے بڑا اور عظیم بنتا ہے۔ اترولی کے ایک عام کسان خاندان میں پیدا ہونے والے بابو جی نے اپنی محنت اور ملک کے تئیں لگن کے جذبے کے ساتھ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی تربیت گاہ میں ایک پختہ رضاکار کی حیثیت سے، ایک کسان، استاد، رکن اسمبلی، رکن پارلیمنٹ، وزیر، وزیر اعلیٰ اور گورنر کی حیثیت سے آئینی ذمہ داریاں بخوبی انجام دیں۔
یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ کلیان سنگھ کی زندگی ہر اس ہندوستانی کے لیے ہمیشہ تحریک کا ذریعہ بنی رہے گی جس کے لیے ’بھارت پہلے‘، ’سناتن اقدار پہلے‘ اور ’قوم پہلے‘ کا جذبہ اہمیت رکھتا ہے۔ ان کی زندگی سادگی، تپسیا اور ریاضت سے بھرپور تھی۔ انہوں نے ہمیشہ سناتن اقدار کا تحفظ کرتے ہوئے غریبوں، کسانوں اور نوجوانوں کے لیے اپنی زندگی وقف کی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بابو جی سے کوئی غلط کام نہیں کرا سکتا تھا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ”کلیان سنگھ ٹوٹ سکتا ہے لیکن جھک نہیں سکتا۔“ انہوں نے پی ڈی اے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والے پی ڈی اے کے معنی ہر روز بدلتے رہتے ہیں۔ ایک دن ’پی‘ کا مطلب پاکستان ہو جائے گا۔
وزیر اعلیٰ یوگی نے کہا کہ گزشتہ نو برسوں میں تین سابق وزرائے اعلیٰ کا انتقال ہوا۔ کلیان سنگھ کے انتقال کے وقت خود وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے تمام پروگرام منسوخ کر کے لکھنو¿ آ کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا تھا۔ ہمارے لیے یہ تکلیف دہ تھا کہ کم از کم ایک معمولی اخلاقی تقاضا پورا کیا جاتا۔ بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے آ کر بابو جی کو خراج عقیدت پیش کیا، لیکن سماج وادی پارٹی کے سربراہ نے بابو جی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بجائے الفاظ کے ذریعے بھی تعزیت کا اظہار نہیں کیا۔ اس سے بڑا توہین آمیز رویہ اور کیا ہو سکتا ہے۔
یوگی نے کہا کہ بابو جی کی زندگی سناتن اقدار کے لیے وقف تھی۔ کلیان سنگھ نے اتر پردیش میں بہتر حکمرانی کی بنیاد رکھی۔ بابو جی نے نوجوانوں کو پلیٹ فارم فراہم کیا اور اتر پردیش کو ایک شناخت دی۔
اس موقع پر نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک، پارلیمانی امور کے وزیر سریش کھنہ، زراعت کے وزیر سوریہ پرتاپ شاہی، مویشی پروری کے وزیر دھرم پال سنگھ، بنیادی تعلیم کے وزیر سندیپ سنگھ، رکن پارلیمنٹ راج بیر سنگھ راجو، اناو کے رکن پارلیمنٹ سچیدانند ہری ساکشی مہاراج اور بی جے پی پسماندہ طبقات مورچہ کے ریاستی صدر پرکاش پال سمیت دیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ