اپ ڈیٹ.... ہائی کورٹ نے جے ایس ایس سی-سی جی ایل اور سی ڈی پی او کی تقرری منسوخ کرنے کے حکم پر روک لگا دی
حکومت سے 7 ستمبر تک جواب طلب رانچی، 21 اگست (ہ س)۔ جھارکھنڈ میں بھرتی کے امتحانات پر جاری تنازعہ کے درمیان جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے جمعہ کو جے ایس ایس سی-سی جی ایل اور سی ڈی پی او امتحانات سے متعلق تقرریوں کو منسوخ کرنے کے ریاستی حکومت کے حکم پر روک
جھارکھنڈ


حکومت سے 7 ستمبر تک جواب طلب

رانچی، 21 اگست (ہ س)۔ جھارکھنڈ میں بھرتی کے امتحانات پر جاری تنازعہ کے درمیان جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے جمعہ کو جے ایس ایس سی-سی جی ایل اور سی ڈی پی او امتحانات سے متعلق تقرریوں کو منسوخ کرنے کے ریاستی حکومت کے حکم پر روک لگا دی۔ مقرر کردہ اہلکاروں کو ہٹانے کے حکومتی نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنے والی چار الگ الگ درخواستوں کی سماعت جسٹس دیپک روشن کی عدالت میں ہوئی۔

سماعت کے دوران عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل روہت رائے سے کہا کہ وہ ایسے تمام معاملات میں حکومت کی جانب سے حلف نامے داخل کرنے کے لیے ایک مقررہ وقت کی حد طے کریں۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو اپنا جواب داخل کرنے کے لیے 7 ستمبر تک کا وقت دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی امیدواروں کو 14 ستمبر تک حکومت کے جواب کا کاو¿نٹر فائل کرنے کی ہدایت کی گئی۔ مقدمے کی اگلی سماعت 15 ستمبر کو ہوگی۔

وکیل اندرجیت سنہا اور وکیل امرتانش وتس امیدواروں کی طرف سے عدالت میں پیش ہوئے۔

درخواستوں میں ریاستی حکومت کے سی ڈی پی او (چائلڈ ڈیولپمنٹ پروجیکٹ آفیسر) امتحان کے اشتہار کو منسوخ کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جے ایس ایس سی-سی جی ایل امتحان اور اس سے متعلق تقرریوں کو منسوخ کرنے کے حکومتی حکم کے خلاف بھی درخواست دائر کی گئی ہے۔

کچھ امیدواروں نے جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (جے پی ایس سی) کے 11 ویں سے 13 ویں سول سروس کے امتحانات اور فوڈ سیفٹی افسران کی تقرریوں کو منسوخ کرنے کے حکومتی حکم کو بھی چیلنج کیا ہے۔

عدالت نے 11 ویں سے 13 ویں امتحان کے سی ڈی پی او اور جے ایس ایس سی امتحانات کی منسوخی کے حوالے سے ریاستی حکومت اور جے پی ایس سی سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت کے عبوری حکم سے ان امتحانات سے متعلق تقرریوں پر فوری بحران فی الحال ٹل گیا ہے۔

یاد رہے کہ سی آئی ڈی کی تحقیقات میں سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر ریاستی حکومت نے 18 اگست کو دیررات امتحانات منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا جس میں ٹی ڈی پی ایل کا کردار سامنے آیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ 2014 سے منعقد ہونے والے تمام بھرتی امتحانات میں ممکنہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا بھی اعلان کیا گیا۔

ان اعلانات کے بعد محکمہ عملہ، انتظامی اصلاحات اور سرکاری السنہ نے امتحان کو منسوخ کرنے، امتحان کے عمل کو ملتوی کرنے اور مختلف امتحانات کو جانچ پڑتال کے تحت لانے کا نوٹیفکیشن جاری کیاتھا۔

سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق 22 امتحانات منسوخ کیے گئے ہیں، چھ امتحانات ملتوی کیے گئے ہیں اور 17 امتحانات کو تحقیقات کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے۔

بھرتی کے امتحانات اور تقرریوں کو منسوخ کرنے کے فیصلے کے بعد متاثرہ امیدواروں اور نئے بھرتی ہونے والے اہلکاروں نے مختلف سطحوں پر احتجاج کرنا شروع کر دیا اور اب کئی معاملات میں عدالت سے رجوع کیا ہے۔ ہائی کورٹ کے جمعہ کے حکم کے بعد جے ایس ایس سی-سی جی ایل اور سی ڈی پی او سے متعلق تقرریوں کے معاملے میں امیدواروں کو فی الحال راحت ملی ہے۔ اس معاملے میں حتمی فیصلہ حکومت کے جواب اور مزید سماعت کے بعد کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande