
جے ایس ایس سی-سی جی ایل کے منتخب امیدواروں نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا، عرضی دائر کر کے جلد سماعت کا مطالبہ کیا
رانچی، 21 اگست (ہ س)۔ جھارکھنڈ میں جے ایس ایس سی-سی جی ایل امتحان سے متعلق جاری تنازعہ بھی اب جھارکھنڈ ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے۔ حکومت کے امتحان منسوخ کرنے کے فیصلے کے خلاف نو منتخب افسران نے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔ منتخب امیدواروں کی جانب سے سینئر وکیل اندرجیت سنہا اور وکیل امرتانش وتس نے عرضی داخل کی ہے۔ عرضی دائر ہونے کے بعد معاملے کی فوری سماعت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ وکلاء کی ٹیم عرضی کو جلد از جلد مینشن کرانے میں مصروف ہے، تاکہ معاملے پر بلاتاخیر سماعت شروع ہو سکے۔
نو منتخب افسران کا کہنا ہے کہ بغیر کسی قانونی بنیاد اور ان کا موقف سنے بغیر پوری تقرری کے عمل پر سوال اٹھانا اور اسے منسوخ کرنا غیر مناسب اور غیر آئینی ہے۔ عرضی گزاروں کی دلیل ہے کہ انہوں نے سخت محنت اور قابلیت کی بنیاد پر تقرری حاصل کی ہے اور مختلف سرکاری محکموں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایسے میں انتظامی فیصلے کی بنیاد پر ان کے مستقبل اور روزگار کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔
سڑک پر انسانی زنجیر بنانے اور احتجاجی مظاہرے کے بعد اب منتخب امیدواروں نے اپنی ملازمت کے تحفظ اور حقوق کی حفاظت کے لیے عدالتی طریقہ کار کا رخ کیا ہے۔
واضح رہے کہ جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (جے پی ایس سی) کے 11ویں سے 13ویں تک کے امتحانات اور ریاستی فوڈ سیفٹی آفیسر نیز چائلڈ ڈیولپمنٹ پروجیکٹ آفیسر کی تقرریاں منسوخ کرنے کے ریاستی حکومت کے حکم پر بھی روک لگا دی ہے۔
جسٹس دیپک روشن نے جمعرات کے روز سوربھ سنگھ بنام ریاستی حکومت کے معاملے کی سماعت کے دوران 18 اگست 2026 کو جاری کردہ اس حکم پر روک لگا دی، جس کے تحت اشتہار نمبر 18/23 کے تحت مقرر کردہ ریاستی فوڈ سیفٹی افسران کی تقرری منسوخ کی گئی تھی۔ عدالت نے اس نوٹیفکیشن سے متاثر ہونے والے دیگر امیدواروں کو بھی عرضی کے فیصلے تک اپنی خدمات جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔
عدالت نے 15 ستمبر کو ہونے والی اگلی سماعت میں کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کی تفتیش میں سامنے آنے والے حقائق کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ پرسنل ڈپارٹمنٹ کی نوٹیفکیشن سے اشتہار نمبر 18/23 کے تحت مقرر کردہ ریاستی فوڈ سیفٹی آفیسر، اشتہار نمبر 21/2024 کے تحت مقرر کردہ ریاستی سروس کے افسران اور اشتہار نمبر 21/23 کے تحت مقرر کردہ چائلڈ ڈیولپمنٹ پروجیکٹ افسران متاثر ہوئے ہیں۔
عدالت نے اپنے حکم کے دسویں نکتے میں ریاستی فوڈ سیفٹی آفیسر کی تقرری منسوخ کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن پر اگلے حکم تک روک لگا دی ہے۔ وہیں حکم کے گیارہویں نکتے میں سینئر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو متعلقہ محکمے کو یہ مطلع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے کہ عرضی گزاروں اور اسی نوعیت کی نوٹیفکیشن سے متاثر ہونے والے دیگر افراد کو عرضی کے حل تک کام کرنے دیا جائے۔
عدالت نے عرضی گزاروں کو حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت بھی دی ہے کہ فوجداری معاملے میں ٹرائل کورٹ کا فیصلہ ان پر نافذ ہوگا اور حکومت قانون کے مطابق کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہوگی۔
سماعت کے دوران عرضی گزار کی جانب سے کہا گیا کہ تمام طے شدہ طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے ان کی تقرری ہوئی تھی اور وہ خدمات انجام دے رہے تھے۔ حکومت نے ان کا موقف سنے بغیر تقرریاں منسوخ کر دیں، جو فطری انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ دوسری جانب حکومت کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ تقرریوں میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور اس کی تفصیلی تفتیش جاری ہے۔ حکومت نے عدالت کو بتایا کہ کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ اس معاملے میں کئی افراد کو گرفتار کر چکا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن