دہلی ریس کلب خالی کرنے کے حکم کو چیلنج کرنے والی عرضی خارج
نئی دہلی، 21 اگست (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے دہلی ریس کلب کو خالی کرنے کے حکم کو چیلنج کرنے والی جاکی ایسوسی ایشن کی عرضی خارج کر دی ہے۔ جسٹس ہریش ویدیہ ناتھن نے کہا کہ درخواست گزار لیز ہولڈر نہیں ہے اور اس کے پاس دیگر قانونی راستے دستیاب ہیں۔ سما
دہلی ریس کلب خالی کرنے کے حکم کو چیلنج کرنے والی عرضی خارج


نئی دہلی، 21 اگست (ہ س)۔

دہلی ہائی کورٹ نے دہلی ریس کلب کو خالی کرنے کے حکم کو چیلنج کرنے والی جاکی ایسوسی ایشن کی عرضی خارج کر دی ہے۔ جسٹس ہریش ویدیہ ناتھن نے کہا کہ درخواست گزار لیز ہولڈر نہیں ہے اور اس کے پاس دیگر قانونی راستے دستیاب ہیں۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے پیش ہوئے وکیل وکاس سنگھ نے کہا کہ درخواست گزار اور اس کے ارکان دہلی ریس کلب کو خالی کرنے کے حکم سے براہ راست متاثر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ درخواست گزار تنظیم کلب میں موجود گھوڑوں کی فلاح و بہبود کے لیے فکرمند ہے۔ اس کلب میں کئی گھوڑے گزشتہ 20 برسوں سے رہ رہے ہیں۔ کلب خالی ہونے سے گھوڑوں کو دی جانے والی تربیت اور ان کی دیکھ بھال متاثر ہوگی۔

سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہوئے وکیل آشیش دکشت نے کہا کہ درخواست گزار نہ تو لیز ہولڈر ہیں اور نہ ہی لیز کے فریق ہیں۔ ایسی صورت میں وہ خالی کرنے کے حکم کو ہائی کورٹ میں رٹ عرضی دائر کرکے چیلنج نہیں کر سکتے۔

اس سے قبل ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے دہلی ریس کلب کو خالی کرنے کے حکم پر عائد روک ہٹا دی تھی۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی سربراہی والی بنچ نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت کو کسی بھی عوامی احاطے میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو وہاں سے ہٹانے کا قانونی اختیار حاصل ہے۔

ڈویژن بنچ نے کہا تھا کہ 24 اپریل کو سنگل بنچ کو دہلی ریس کلب کو خالی کرنے کا حکم جاری نہیں کرنا چاہیے تھا۔ سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ایڈیشنل سالیسٹر جنرل چیتن شرما نے کہا کہ وجہ بتاو¿ نوٹس کے خلاف دہلی ریس کلب کی عرضی قابل سماعت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی ریس کلب کو عوامی احاطہ قانون کی دفعہ 4 کے تحت اپنا اعتراض اسٹیٹ آفیسر کے سامنے درج کرانا چاہیے۔

ڈویژن بنچ نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت کو کسی بھی عوامی احاطے سے غیر مجاز قبضہ ہٹانے کے لیے دفعہ 4 کے تحت اسٹیٹ آفیسر کے ذریعے کارروائی کرنے کا اختیار ہے۔ اسٹیٹ آفیسر کی کارروائی پر روک لگانا ایک طرح سے فیصلہ سنانے کے مترادف ہے۔

ڈویژن بنچ نے کہا کہ دہلی ریس کلب کو 1926 میں 84.484 ایکڑ زمین لیز پر دی گئی تھی۔ یہ لیز 31 دسمبر 1994 کو ختم ہو گئی تھی۔ ڈویژن بنچ نے کہا کہ کسی قانونی قابض کی لیز ختم ہو جانے کے بعد اس کا قبضہ بھی غیر مجاز قبضہ ہی تصور کیا جائے گا۔

دراصل یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب اسٹیٹ آفیسر نے 17 اپریل کو دہلی ریس کلب کو وجہ بتاو¿ نوٹس جاری کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ اس کے خلاف خالی کرنے کا حکم کیوں جاری نہ کیا جائے۔ دہلی ریس کلب نے اسی نوٹس کو سنگل بنچ کے سامنے چیلنج کیا تھا۔ سنگل بنچ نے 24 اپریل کو اس نوٹس پر روک لگا دی تھی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande