
نئی دہلی، 21 اگست (ہ س)۔ بھاگیرتھی ایکو-سینسیٹوزون نوٹیفکیشن کے نفاذ کا جائزہ لینے کے لئے جمعہ کو اتراکھنڈ کے چیف سکریٹری، ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کے سکریٹری اور دیگر سینئر عہدیداروں کے ساتھ ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ مرکزی وزیر بھوپیندر یادو میٹنگ میں موجود تھے۔
اجلاس میں نوٹیفکیشن کی تمام شقوں کو انتہائی سنجیدگی اور مو¿ثر طریقے سے نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا اور موثر نگرانی، نفاذ اور تعمیل کے لیے مضبوط ادارہ جاتی میکانزم قائم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
اجلاس میں اس حوالے سے سپریم کورٹ کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ خاص طور پر دریائے بھاگیرتھی اور اس کے آس پاس کے علاقوں کی ثقافتی، ماحولیاتی اور روحانی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تحفظ اور حساس ترقی کے درمیان توازن برقرار رکھنے پر زور دیا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ 18 دسمبر 2012 کو ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت نے بھاگیرتھی ایکو -سینسیٹو زون نوٹیفکیشن کے تحت گو مکھ سے اترکاشی تک بھاگیرتھی ندی کے 4,179.59 مربع کلومیٹر کے حصے کو ایکو سینسیٹو زون قرار دیا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد گنگا کے نکلنے کی جگہ کا حیاتیاتی تنوع اور ہمالیہ کے نازک ماحولیاتی نظام کی حفاظت کرنا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد