
اے ایم یو اور میونسپل کارپوریشن کے درمیان زمین تنازع : ڈی ایم اویناش کمار نے کہا۔ عدالتی فیصلے تک برقرار رہے گی موجودہ حالت
علی گڑھ، 21 اگست (ہ س)۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) اور میونسپل کارپوریشن کے درمیان زمین کی ملکیت کو لے کر جاری تنازعہ کے معاملے میں ضلع مجسٹریٹ اویناش کمار نے آج میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ دستاویزی شواہد کی بنیاد پر طے کیا جائے گا اور جب تک قانونی حیثیت واضح نہیں ہوتی، موقع پر پہلے سے قائم موجودہ حالت برقرار رہے گی۔
ضلع مجسٹریٹ نے بتایا کہ مذکورہ زمین پر اے ایم یو اور میونسپل کارپوریشن دونوں کی جانب سے اپنا اپنا دعویٰ پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے ایم یو کے وائس چانسلر کی جانب سے اس معاملے میں کچھ نئے حقائق اور دستاویزات پیش کیے گئے ہیں۔ اسی سلسلے میں آج اے ایم یو کے پراکٹر اور پراپرٹی مینیجر کے ساتھ میٹنگ کی گئی، جس میں یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنے ریکارڈ پیش کیے۔
انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کی جانب سے پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق مذکورہ زمین پہلے اے ایم یو کے نام درج رہی ہے اور ممکنہ طور پر 1990 کی دہائی کے آس پاس اسے بنجر زمین کے طور پر درج کر دیا گیا۔ تاہم اس دعوے کی تصدیق کے لیے ریکارڈ کی تفصیلی جانچ ضروری ہے۔ ڈی ایم اویناش کمار نے کہا کہ یہ معاملہ کسی نجی زمین یا جائیداد کا نہیں بلکہ دو سرکاری اداروں کے درمیان ہے۔ اے ایم یو بھی ایک سرکاری ادارہ ہے اور میونسپل کارپوریشن کی جانب سے بھی سرکاری زمین پر اپنا دعویٰ پیش کیا جا رہا ہے۔ معاملے کی حساسیت کے پیش نظر دستاویزی شواہد کی بنیاد پر مکمل جانچ ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اے ایم یو انتظامیہ کی جانب سے ایس ڈی ایم عدالت میں ریکارڈ کی تصحیح سے متعلق ایک مقدمہ پہلے ہی دائر کیا گیا تھا، جس کی اطلاع انتظامیہ کو گزشتہ روز دی گئی۔ ایس ڈی ایم عدالت نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اب دونوں فریقوں، یعنی اے ایم یو اور میونسپل کارپوریشن، کو اپنے اپنے دستاویزی شواہد پیش کرنے کے لیے نوٹس جاری کرنے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ ان شواہد کی جانچ کے بعد ہی آئندہ قانونی کارروائی طے کی جائے گی۔
تھانے کی تعمیر کے لیے مذکورہ زمین پر قبضے کے سوال پر ضلع مجسٹریٹ نے واضح کیا کہ زمین پر جس فریق کا پہلے سے قبضہ چلا آ رہا ہے، فی الحال وہی حالتِ موجودہ برقرار رہے گی اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ زمین یونیورسٹی کی ثابت ہونے کی صورت میں اسے یونیورسٹی کے حوالے کیا جائے گا، جبکہ میونسپل کارپوریشن کا دعویٰ درست ثابت ہونے پر فیصلہ اس کے حق میں کیا جائے گا۔ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ جب تک زمین متنازعہ ہے اور تھانے کی تعمیر کے لیے ضروری اجازت یا منظوری حاصل نہیں ہوتی، وہاں کسی بھی قسم کا تعمیراتی کام نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے نصب کیے گئے بورڈ کے معاملے میں بھی فی الحال کوئی واضح قانونی پیش رفت نہیں ہے اور زمین کی صحیح حیثیت واضح ہونے تک کوئی مزید کارروائی نہیں کی جائے گی۔
موقع سے بعض افراد کی جانب سے بورڈ ہٹائے جانے کے سوال پر ڈی ایم نے کہا کہ یہ معاملہ فی الحال ان کے علم میں نہیں ہے۔ انہوں نے دوبارہ واضح کیا کہ اے ایم یو کی جانب سے پیش کیے گئے حقائق اور دستاویزات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ چونکہ معاملہ سرکاری زمین سے متعلق ہے اور ایس ڈی ایم عدالت میں زیرِ سماعت ہے، اس لیے دونوں فریقوں کو اپنا اپنا موقف اور دستاویزی ثبوت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا، جس کے بعد ہی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ