چمپت رائے نے نو صفحات کے خط میں 33 نکات اٹھائے، کہا- مندر تعمیراتی کمیٹی کے چیئرمین نرپیندر مشرا کے فیصلے حاوی رہے
چمپت رائے نے نو صفحات کے خط میں 33 نکات اٹھائے، کہا- مندر تعمیراتی کمیٹی کے چیئرمین نرپیندر مشرا کے فیصلے حاوی رہے ایودھیا، 21 اگست (ہ س)۔ شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ کے سابق جنرل سکریٹری چمپت رائے نے جمعرات کے روز بیان کی شکل میں نو صفحا
چمپت رائے اور خط


چمپت رائے نے نو صفحات کے خط میں 33 نکات اٹھائے، کہا- مندر تعمیراتی کمیٹی کے چیئرمین نرپیندر مشرا کے فیصلے حاوی رہے

ایودھیا، 21 اگست (ہ س)۔

شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ کے سابق جنرل سکریٹری چمپت رائے نے جمعرات کے روز بیان کی شکل میں نو صفحات پر مشتمل ایک خط جاری کیا۔ اس میں انہوں نے 33 نکات پرتفصیلی گفتگوکی۔ انہوں نے مندر تعمیراتی کمیٹی کے چیئرمین نرپیندرمشرا کے حوالے سے کئی اہم دعوے کیے۔ رائے نے کہا ہے کہ مندرتعمیراتی کمیٹی کے چیئرمین نرپیندرمشرا نے مندر کی تعمیر سے متعلق کئی اہم فیصلے کیے۔ یہی نہیں، فیصلے لیتے وقت انہوں نے کسی دوسرے کے فیصلے کواہمیت نہیں دی۔

چمپت رائے نے دعویٰ کیا کہ مندرکی تعمیرکے فیصلوں میں نرپیندرمشرا کے فیصلے ہی غالب اور نمایاں رہے۔

انہوں نے خط میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے رام مندر کی تعمیر کے لیے جوٹرسٹ قائم کیا، اس میں 15 ٹرسٹیز شامل کیے گئے، جن کے چیئرمین نرپیندرمشرا بنائے گئے۔ رائے نے کہا کہ انہی کی تجاویز کی بنیاد پرایل اینڈ ٹی کو مندر کی تعمیر کے لیے منتخب کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ عمارتوں کی تعمیر کے لیے نوئیڈا کی فرم ڈیزائن ایسوسی ایٹ (فرم کے سربراہ جے کاکتیکر) کا انتخاب بھی نرپیندرمشرا نے ہی کیا۔

انہوں نے خط میں لکھا: ’’یہ بھی حقیقت ہے کہ نرپیندرمشرا کی بدولت پتھروں سے تیارہونے والا اتنا عظیم الشان مندر جون 2020 میں کورونا دور سے شروع ہو کرجون 2026 تک مکمل طور پر سماج کے نام وقف ہوگیا۔ یہ محض نرپیندر مشرا کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ جب کبھی کوئی رکاوٹ پیش آئی تو انہوں نے فوری طور پر متعلقہ شعبے کے ملک کے قابل ترین ماہرین کو ایودھیا طلب کرلیا اور ان کے مشوروں کی روشنی میں وہ رکاوٹ دورہوگئی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بیشتر دانشوروں نے یہاں جذبۂ خدمت کے تحت تجاویز پیش کیں، یعنی شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر سے کوئی معاوضہ نہیں لیا۔‘‘

رائے نے کہا کہ انوپ متل، جو کبھی این بی سی سی کے چیئرمین رہے، وہ مندر تعمیراتی کمیٹی کے رکن بھی ہیں اور پیشے کے اعتبار سے سول انجینئر ہیں۔ وہ انجینئرنگ کے امور پر ہمیشہ نرپیندر مشرا کے مشیر رہے۔ نرپیندر کے تمام تحریری کام انوپ ہی کیا کرتے تھے۔ مثلاً، تعمیراتی کمیٹی کی میٹنگوں کے منٹس تیار کرنا اور متعلقہ افراد کو بھیجنا وغیرہ۔ انوپ کے ساتھ ایک نوجوان سول انجینئر یش متل بھی ہمیشہ موجود رہے، جو فوری طور پر اپنے لیپ ٹاپ پر تمام تفصیلات ٹائپ کرتے تھے۔ انہی کی بنیاد پر تمام کام انجام پاتے تھے۔ یہ قابلِ تعریف عمل ہے اور میں اس پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل رام کتھا میوزیم اتر پردیش حکومت کی ملکیت ہے۔ نرپیندر مشرا کا ماننا تھا کہ تیرتھ چھیتر ٹرسٹ کو بھی ایک میوزیم بنانا ہے اور ایک چھوٹے سے قصبے میں دو میوزیم ہونا عملی طور پر مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے اتر پردیش حکومت کے متعلقہ حکام سے گفتگو کی، جسے انہوں نے قبول کر لیا۔

اتر پردیش حکومت اور شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر کے درمیان ایک تحریری معاہدہ طے پایا، جس کے تحت میوزیم کی عمارت 30 سال کے لیے تیرتھ چھیتر ٹرسٹ کو لیز پر مل گئی۔ اس کے معائنے کے بعد سب نے محسوس کیا کہ اس کی مکمل از سرِ نو بحالی (تجدید و مرمت) ضروری ہے۔ نرپیندر مشرا نے میوزیم کے تمام کاموں کی دیکھ بھال کے لیے نیشنل میوزیم سے ریٹائرڈ سنجیب سنگھ کا انتخاب کیا، جو ایودھیا آ گئے اور تمام امور سنبھال لیے۔

رائے کے مطابق، ماہرِ تعمیرات جے کاکتیکر نے ڈیزائن تیار کیا۔ اتر پردیش راجکیہ نرمان نگم کو تجدید و مرمت کا کام سونپا گیا جبکہ انجینئرز انڈیا لمیٹڈ (ای آئی ایل) کو اس کام کی نگرانی کی ذمہ داری دی گئی۔ سنجیب سنگھ نے میوزیم میں 20 گیلریوں کا خاکہ تیار کیا۔ ٹرسٹ کے چیئرمین مشرا نے بعض امور کو تیار کرنے اور میوزیم میں لگانے کی ذمہ داری آئی آئی ٹی مدراس کو سونپی۔ انہوں نے ایودھیا آ کر جائزہ لیا اور کام کا آغاز کیا۔ ہر ماہ مندر تعمیراتی کمیٹی کی میٹنگ کے ساتھ ساتھ میوزیم کے کاموں کے لیے بھی دو تین نشستوں میں نرپیندر مشرا نے تمام متعلقہ افراد کے ساتھ بیٹھنا شروع کیا۔ آہستہ آہستہ کام آگے بڑھ رہا ہے اور امکان ہے کہ دسمبر 2027 تک یہ میوزیم عوام کے دیدار کے لیے کھول دیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande