
بھوپال، 02 اگست (ہ س)۔ مدھیہ پردیش اردو اکادمی، سنسکرتی پریشد، محکمۂ ثقافت کے زیرِ اہتمام ضلع ادب گوشہ، رائسین کے ذریعے ’’سلسلہ اور تلاشِ جوہر‘‘ کے تحت ادبی و شعری نشست کا انعقاد 2 اگست 2026 کو دوپہر 2.30 بجے ڈائٹ کیمپس، وارڈ نمبر 11، رائسین میں ضلع کوآرڈینیٹر صبیحہ صدف کے تعاون سے کیا گیا۔
رائسین میں منعقدہ ’’سلسلہ‘‘ کے لیے مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’’اردو شاعری صرف جذبات کا اظہار نہیں، بلکہ سماج، فطرت اور انسانی اقدار کی حساس ترجمانی بھی ہے۔ ’سلسلہ‘ کے ذریعے ہمارا مقصد اردو ادب کی تخلیقی روایت کو عوام الناس تک پہنچانا ہے۔ ساتھ ہی ریاست میں بامقصد فکری و علمی مذاکرے کے سلسلے کے طور پر رائسین میں ’اردو شعر و ادب میں ماحولیات‘ جیسے معاصر موضوع پر گفتگو ہوئی۔ یہ مذاکرہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو ادب آج بھی سماج اور فطرت کے مسائل و سروکار سے گہرے طور پر جڑا ہوا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس طرح کے پروگرام نئی نسل میں ادبی ذوق، انسانی احساسات اور ماحولیات کے تئیں بیداری کو مزید مستحکم کریں گے۔‘‘
رائسین ضلع کی کوآرڈینیٹر صبیحہ صدف نے بتایا کہ ’’سلسلہ‘‘ کے تحت دوپہر 2.30 بجے ادبی و شعری نشست کا انعقاد ہوا جس کی صدارت سیدہ اصرار قریشی نے کی۔ وہیں مہمانِ خصوصی کے طور پر ودیشہ کے استاد شاعر نثار مالوی اور مہمانانِ ذی وقار کے طور پر سید ساجد حسن، بھوپال اور مرزا مسرت بیگ اسٹیج پر موجود رہے۔ اس موقع پر سیدہ اصرار قریشی نے ’’اردو شعر و ادب میں ماحولیات‘‘ موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سائنس کی اصطلاح میں ’ماحولیات‘ اس نظام کو ظاہر کرتا ہے جس میں جاندار اور غیر جاندار اجزا مل کر کام کرتے ہیں۔
چونکہ شاعر بیدار ذہن اور حساس دل رکھتا ہے، اس لیے اس کا ماحولیات کے عناصر سے متاثر ہونا ایک فطری عمل ہے۔
جیسے جنگلوں کو کاٹ کر شہر بسائے جانے پر آب و ہوا تبدیل ہوئی اور ایک حساس شاعر بے ساختہ کہہ اٹھا:
پیڑ کاٹے تو پرندوں پہ قیامت ٹوٹی
حوصلے ٹوٹ گئے شہر کے پھیلاؤ کے بعد
ہم کہہ سکتے ہیں کہ ماحولیات سے متاثر ہو کر ہی شاعر حیات سے کائنات تک کا سفر طے کرتا ہے۔ ساتھ ہی ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اردو شعر و ادب ماحولیات کا آئنہ دار ہے۔
شعری نشست میں جن شاعروں نے اپنا کلام پیش کیا ان کے نام اور اشعار درج ذیل ہیں:
کلام بولتا ہے کیسے خاندان کا ہے
سخن میں سارا ہنر آ پ کی زبان کا ہے
زمانہ ہوگیا پرواز کو پہ سوئے فلک
ہوا میں شور ابھی تک مری اڑان کا ہے
— صبیحہ صدف
آج کے دور میں انسان کہاں ملتے ہیں
دل میں بستے ہیں وہ مہمان کہاں ملتے ہیں
— سنجے ساگر
بنارس کی سحر لکھ دینا اودھ کی شام لکھ دینا
کہیں رحمان لکھ دینا کہیں پر رام لکھ دینا
جلانا مت کسی گھر کو وہاں انسان لکھ دینا
ہر اک ماچس کی تیلی پر یہی پیغام لکھ دینا
— شمیم تنہا
ہم ان میں سے نہیں جو فیصلہ آسان لیتے ہیں
وہی کرتے ہیں جو بس دل میں اپنے ٹھان لیتے ہیں
— شیلیندر سنگھ ٹھاکر
دیش پر جان قربان جو کر گئے
دل میں تصویر ان کی لگاتا ہوں میں
— دیویندر سنگھ دھاکڑ
ان کے گرویدہ سبھی ہوتے ہیں
جن کی میٹھی سی زباں ہوتی ہے
— افروز الدین
ان کے علاوہ اشوک شریواستو، پردیپ سونی، سنتوش اوستھی، ثمینہ سلطان، ایل ایل درشن، ریحان پرتاپ گڑھی اور گنیش تاج نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض صبیحہ صدف نے نے بحسن و خوبی انجام دیے۔پروگرام کے اختتام پر انہوں نے تمام مہمانوں، تخلیق کاروں اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن