
میرزاپور، 2 اگست(ہ س)۔ اتر پردیش کے ضلع میرزاپور کے وندھیاچل تھانہ علاقے کے دھورہرا گاؤں کے بیش پور بستی میں اتوار کو ایک دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا، جہاں ایک 12 سالہ بچی پرانے کنویں میں گر کر جان کی بازی ہار گئی، جبکہ اسے بچانے کے لیے کنویں میں چھلانگ لگانے والی اس کی والدہ شدید زخمی ہو گئیں۔
اطلاعات کے مطابق بسنت لال گپتا کی بیٹی سچیتا (12) اپنی والدہ شکنتلا دیوی کے ساتھ گھر سے تقریباً ایک کلومیٹر دور کھیتی کاکام کرنے گئی تھی۔ صبح تقریباً 11 بجے پیاس لگنے پر سچیتا قریبی پرانے کنویں سے پانی لینے گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ جب وہ رسی اور بالٹی کی مدد سے پانی نکال رہی تھی تو اچانک اس کا پیر پھسل گیا اور وہ سیدھی کنویں میں جا گری۔بیٹی کی چیخ سن کر والدہ شکنتلا دیوی نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اسے بچانے کے لیے خود بھی کنویں میں چھلانگ لگا دی۔
واقعے کے وقت قریب موجود چرواہوں نے فوری طور پر گاؤں والوں کو اطلاع دی، جس کے بعد بڑی تعداد میں لوگ موقع پر پہنچے۔ کافی کوششوں کے بعد دونوں کو کنویں سے باہر نکالا گیا اور فوری طور پر سرروئی پرائمری ہیلتھ سینٹر منتقل کیا گیا۔
طبی مرکز کے انچارج ڈاکٹر پنیت اگروال نے معائنے کے بعد سچیتا کو مردہ قرار دے دیا، جبکہ شکنتلا دیوی کا علاج جاری ہے اور ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
متوفی سچیتا گاؤں کے کمپوزٹ ودیالیہ میں چھٹی جماعت کی طالبہ تھی۔ وہ تین بہنوں اور ایک بھائی میں سب سے بڑی تھی۔ اس کی اچانک موت سے نہ صرف اہل خانہ بلکہ پورے گاؤں میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ادھر موقع پر پہنچنے والے پولیس چوکی انچارج سریش دوبے نے بتایا کہ قانونی کارروائی مکمل کرنے اور پنچنامہ تیار کرنے کے بعد بچی کی لاش اہل خانہ کے حوالے کر دی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan