
نئی دہلی، 2 اگست (ہ س)۔ دہلی حکومت نے اتوار کو قومی دارالحکومت کے علاقے کی جیلوں میں حراست کے دوران ہونے والی غیر فطری موت کے معاملے میں ایک بڑا انتظامی فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے ’دہلی کی جیلوں میں قیدیوں کی موت ہونے پر معاوضہ ادائیگی اسکیم، 2025‘ کو نوٹیفائی کر دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ کے دفتر کے مطابق اس اسکیم کے تحت جیل میں غیر فطری موت ہونے پر متوفی کے لواحقین یا قانونی وارثوں کو 5 لاکھ روپے سے لے کر 7.5 لاکھ روپے تک کا معاوضہ دیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا ہے کہ قومی انسانی حقوق کمیشن کی ہدایات کے مطابق نوٹیفائی کی گئی یہ اسکیم متاثرہ خاندانوں کو مقررہ حالات میں وقت پر راحت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انتظامی جواب دہی کو اور زیادہ مضبوط کرے گی۔ دہلی حکومت قانون کی حکمرانی، انسانی وقار اور آئینی اقدار کے لیے مکمل طور پر پابند ہے۔ کسی بھی شخص کی حراست کے دوران ہونے والی غیر فطری موت انتہائی سنگین معاملہ ہے اور ایسے معاملوں میں شفافیت، جواب دہی اور قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ دہلی حکومت کا مقصد جیل انتظامیہ میں شفافیت، حساسیت اور جواب دہی کو مضبوط کرنا نیز ہر معاملے میں قانون کے مطابق انصاف یقینی بنانا ہے۔
دہلی حکومت کے محکمہ داخلہ (عام) کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اسکیم ’دہلی کی جیلوں میں قیدیوں کی موت ہونے پر معاوضہ ادائیگی اسکیم، 2025‘ (اسکیم فار پیمنٹ آف کمپنسیشن آن اکاونٹ آف ڈیتھ آف پریزنرس ان دہلی پریزن، 2025) کے نام سے نافذ ہوگی۔ یہ اسکیم صرف ان معاملوں پر نافذ ہوگی، جن میں اس اسکیم کے نوٹیفکیشن کی تاریخ یا اس کے بعد دہلی کی کسی بھی جیل میں کسی قیدی کی غیر فطری موت ہوئی ہو۔
نوٹیفکیشن کے مطابق قیدیوں کے درمیان باہمی تنازعہ یا جیل اہلکاروں کے ذریعے مبینہ تشدد یا مارپیٹ کی وجہ سے موت ہونے پر متوفی کے لواحقین کو 7.5 لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جائے گا۔ وہیں، جیل حکام یا ملازمین کی ڈیوٹی میں لاپروائی، طبی یا پیرامیڈیکل حکام کی لاپروائی اور قیدی کے ذریعے خودکشی کیے جانے کے معاملوں میں 5 لاکھ روپے کا معاوضہ مقرر کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا کہ قدرتی موت یا بیماری سے ہوئی موت کے معاملوں میں معاوضہ قابلِ ادا نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ جیل سے فرار ہونے یا قانونی حراست سے بھاگنے کے دوران ہوئی موت اور کسی آفت یا حادثے کے سبب ہوئی موت بھی اس اسکیم کے دائرے میں شامل نہیں ہوگی۔ اسکیم کے تحت متعلقہ جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہر معاملے میں مجسٹریٹ کی تحقیقاتی رپورٹ، پوسٹ مارٹم رپورٹ، موت کی حتمی وجہ، قیدی کی طبی ہسٹری اور موت سے قبل فراہم کیے گئے علاج کی تفصیلات ڈائریکٹر جنرل (جیل) دہلی کو بھیجنی ہوں گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق، ڈائریکٹر جنرل (جیل) کی سربراہی میں تشکیل شدہ کمیٹی ان معاملوں کا جائزہ لے گی۔ کمیٹی میں اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل (جیل)، ریذیڈنٹ میڈیکل آفیسر، ڈپٹی کنٹرولر (اکاونٹس) اور لاء آفیسر بھی رکن ہوں گے۔ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر محکمہ کے انتظامی سکریٹری کے سامنے معاوضہ منظوری کی تجویز بھیجی جائے گی۔ نوٹیفکیشن میں یہ بھی فراہم کیا گیا ہے کہ معاوضے کی رقم کی ادائیگی کے بعد متعلقہ جیل سپرنٹنڈنٹ اس کی اطلاع قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) کو دیں گے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن