ڈنڈیگل چیروو جھیل کے بفر زون میں ولا پروجیکٹ کی تعمیر پر اٹھ رہے ہیں سوالات
حیدرآباد ،2 اگست (ہ س)۔ حیدرآباد کے ڈنڈ یگل چیرووجھیل کے بفرزون میں مبینہ طورپرایک بڑے ولا پروجیکٹ کی تعمیرکے معاملے پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ الزامات کے مطابق ایک معروف تعمیراتی کمپنی جھیل کے بفرزون میں تقریباً150ولا تعمیرکر رہی ہے۔ کمپنی کی جان
ڈنڈیگل چیروو کے بفر زون میں ولا پروجیکٹ پرحیڈرا سے  سوالات


حیدرآباد ،2 اگست (ہ س)۔

حیدرآباد کے ڈنڈ یگل چیرووجھیل کے بفرزون میں مبینہ طورپرایک بڑے ولا پروجیکٹ کی تعمیرکے معاملے پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ الزامات کے مطابق ایک معروف تعمیراتی کمپنی جھیل کے بفرزون میں تقریباً150ولا تعمیرکر رہی ہے۔ کمپنی کی جانب سے اس پروجیکٹ کی تشہیر8.25 ایکڑاراضی پرولازکی تعمیرکے طورپرکی جارہی ہے،جوآؤٹررنگ روڈ سے تقریباً دوکلومیٹر کے فاصلے پرواقع ہے۔ اس معاملے پرتنازعہ اس وقت مزید بڑھ گیا جب یہ دعویٰ سامنے آیاکہ آبپاشی کے حکام نے تقریباً 18 ماہ قبل متعلقہ حکام کو ایک خط لکھ کرواضح کیا تھا کہ مذکورہ تعمیراتی مقام جھیل کے بفرزون میں واقع ہے۔

اس کے باوجود مبینہ طورپرحیدرآباد میٹروپولیٹن ڈیولپمنٹ اتھارٹی(ایچ ایم ڈی اے)کی جانب سے پروجیکٹ کےلیے اجازتیں جاری کی گئیں۔اس صورتحال نے متعلقہ حکام کے کردارپرسوالات کھڑے کردیئے ہیں۔عوام اورناقدین یہ سوال اٹھارہے ہیں کہ اگر آبپاشی حکام پہلے ہی مذکورہ اراضی کوبفرزون میں ہونے کی نشاندہی کرچکے تھےتواس کے باوجود تعمیراتی اجازتیں کیسےدی گئیں۔

دوسری جانب حیڈرا،میونسپل حکام اورایچ ایم ڈی اے کی مبینہ خاموشی پربھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ جھیلوں اورآبی ذخائرکے تحفظ کے حوالے سے سخت کارروائی کے دعووں کے باوجود اس پروجیکٹ کے معاملے میں کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔عوامی حلقوں میں یہ بھی سوال کیاجارہا ہے کہ آیاحیڈراکی جانب سے دوسرے معاملات میں کی جانے والی کارروائیاں یکساں طورپرتمام پروجیکٹس پرلاگوکی جارہی ہیں یانہیں۔ ناقدین نے حیڈراکمشنراے وی رنگناتھ اوروزیراعلی اے ریونت ریڈی کے جھیلوں اورتالابوں کے تحفظ سے متعلق بیانات کاحوالہ دیتے ہوئے اس معاملے میں وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم، کمیشن سے متعلق الزامات کی آزادانہ طورپرتصدیق نہیں ہوئی ہے۔ متعلقہ حکام اورتعمیراتی کمپنی کی جانب سے بھی ان الزامات پرتاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ مقامی افراد اورماحولیاتی کارکنوں نے مطالبہ کیاہے کہ ولا پروجیکٹ کی منظوری، مذکورہ اراضی کے بفرزون میں ہونے کی حیثیت اورتمام متعلقہ ماحولیاتی وتعمیراتی قوانین کی پابندی کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande