
لکھنو، 02 اگست (ہ س)۔ اترپردیش کے سیاحت اور ثقافت کے وزیر جے ویر سنگھ نے اتوار کو ’دی رائڈنگ چیپٹرز: وزٹ مائی اسٹیٹ‘ کے پہلے ایڈیشن کا آغاز کرتے ہوئے 65 بائیک رائڈرز کے دستے کو لکھنو کے 1090 چوراہے سے ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ اس پہل کا مقصد ایڈونچر ٹورزم کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ اتر پردیش کے کم مشہور ورثے، قدرتی مقامات اور التوا میں پڑے تاریخی مقامات کو نئے سیاحتی تجربے کے طور پر ملک اور دنیا کے سیاحوں کے سامنے پیش کرنا ہے۔
اس موقع پر سیاحت اور ثقافت کے وزیر جے ویر سنگھ نے کہا کہ اتر پردیش میں سیاحت نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ ریاست میں سیاحت کے بے شمار امکانات ہیں، جنہیں نئی توانائی دینے کے مقصد سے 65 رکنی بائیک رائڈرز کے دستے کو کالنجر قلعے کے سنسنی خیز سفر کے لیے روانہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ لکھنو سے کالنجر تک کے اس سفر کو محفوظ، آسان اور یادگار بنانے کے لیے محکمہ سیاحت کے ساتھ ساتھ راستے میں پڑنے والے تمام متعلقہ اضلاع کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور مقامی انتظامیہ مکمل تعاون فراہم کریں گے۔ وزیر نے یہ بھی کہا کہ ریاستی حکومت کا مقصد سیاحت کی ترقی کو عوام کی شرکت سے جوڑنا ہے۔ اس مہم کے ذریعے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو اتر پردیش کی مالا مال میراث، ایڈونچر ٹورزم اور کم معروف مقامات سے جوڑ کر انہیں سیاحت کا فعال سفیر بنانا ہے۔
ایڈیشنل چیف سکریٹری برائے سیاحت، ثقافت اور مذہبی امور امرت ابھیجات نے کہا کہ ’محکمہ سیاحت ریاست کے مشہور مقامات کے ساتھ نسبتاً کم مقبول مقامات کو نمایاں کرنے پر بھی توجہ دے رہا ہے۔ باندا ضلع میں واقع کالنجر کا قلعہ ایسا ہی مقام ہے، جسے سیاحتی منظر نامے میں لانے کی ضرورت ہے۔ جوش و خروش سے بھرپور 65 رکنی بائیک سواروں کا دستہ ایسے مقامات کو فروغ دے گا۔‘ انہوں نے کہا کہ ’دی رائڈنگ چیپٹرز‘ اسی سمت میں ایک اہم پہل ہے، جو سیاحوں کو اتر پردیش کی مالا مال وراثت، دیہی ماحول اور چھپی ہوئی سیاحتی جائیدادوں سے جوڑنے کا کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بندیل کھنڈ کے قدرتی ماحول اور مانسون کے موسم کو مدنظر رکھ کر یہ اہتمام کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’بائیکرز راستے سے گزرنے کے دوران دیہاتیوں سے ملیں۔ ویڈیوز بنائیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے تجربات کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔ اس سے اتر پردیش کے ان سیاحتی مقامات کی معلومات بھی ریاست اور ملک کے لوگوں کو ملیں گی، جو اب تک نامکمل یا الگ تھلگ ہیں۔‘
تقریباً 330 کلومیٹر طویل اس پہلی سیاحتی بائیک یاترا کا روٹ لکھنو، کانپور، بندکی اور باندا سے ہوتے ہوئے تاریخی کالنجر قلعے تک مقرر کیا گیا ہے۔ سفر کا اختتام دھرم نگری چترکوٹ میں ہوگا۔ اس دوران شرکاء باندا کے گل موہر ایکو اسپاٹ پر رکیں گے، جہاں انہیں بندیل کھنڈ کی دیہی ثقافت، روایتی کھان پان اور دیہی سیاحت کی انوکھی جھلک دیکھنے کا موقع ملے گا۔
اس دوران ڈائریکٹر جنرل ٹورزم ڈاکٹر ویدپتی مشرا، منیجنگ ڈائریکٹر یو پی ایس ٹی ڈی سی آشیش کمار، ڈپٹی ڈائریکٹر کیرتی اور محکمہ سیاحت سے وابستہ دیگر لوگوں کی وقار پرور موجودگی رہی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن