آسام کے دھیماجی اور شیوساگر اضلاع میں ندیوں کی سطح آب دوبارہ خطرے کے نشان سے اوپر
گوہاٹی، 2 اگست(ہ س)۔ آسام میں اگرچہ بیشتر علاقوں میں سیلابی پانی تیزی سے اتر رہا ہے، تاہم دھیماجی اور شیوساگر اضلاع میں ندیوں کی سطح آب ایک بار پھر خطرے کے نشان سے اوپر پہنچ گئی ہے۔ خاص طور پر ضلع شیوساگر میں سیلاب کی تباہ کاریاں ہر طرف نمایاں ہیں،
آسام کے دھیماجی اور شیوساگر اضلاع میں ندیوں کی سطح آب دوبارہ خطرے کے نشان سے اوپر


گوہاٹی، 2 اگست(ہ س)۔ آسام میں اگرچہ بیشتر علاقوں میں سیلابی پانی تیزی سے اتر رہا ہے، تاہم دھیماجی اور شیوساگر اضلاع میں ندیوں کی سطح آب ایک بار پھر خطرے کے نشان سے اوپر پہنچ گئی ہے۔ خاص طور پر ضلع شیوساگر میں سیلاب کی تباہ کاریاں ہر طرف نمایاں ہیں، جبکہ بالائی آسام کے چار سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع شیوساگر، چرائیدیو، جورہاٹ اور گولاگھاٹ میں معمولات زندگی اب بھی بحال نہیں ہو سکے ہیں۔

سب سے زیادہ متاثرہ ضلع شیوساگر ہے، جہاں سرکاری اور نجی سطح پر متاثرین تک امداد پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے، لیکن اس کے باوجود ہزاروں افراد اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکے کیونکہ سیلاب نے ان کے مکانات اور املاک کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ریاستی حکومت کے تمام محکمے متاثرین کی امداد کے لیے سرگرم ہیں۔ محکمہ زراعت کسانوں کو متبادل فصلوں کی کاشت کے لیے ضروری وسائل فراہم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، کیونکہ موجودہ حالات میں دھان کی کاشت ممکن نہیں رہی۔

آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایس ڈی ایم اے) کی یکم اگست کو جاری رپورٹ کے مطابق دیکھو ندی (شیوساگر) اور دھنسری ندی (نملی گڑھ) اب بھی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ تاہم ہفتے کے روز سیلاب سے کسی نئی ہلاکت کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ ریاست میں اب تک سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 82 ہو چکی ہے۔

اس وقت ریاست کے سات اضلاع اب بھی سیلاب سے بری طرح متاثر ہیں، جبکہ جمعہ کو متاثرہ اضلاع کی تعداد پانچ تھی۔ متاثرہ اضلاع میں گولاگھاٹ، شیوساگر، چرائیدیو، بجالی، دھیماجی، سونیت پور اور جورہاٹ شامل ہیں۔

سیلاب سے سات اضلاع کے 20 ریونیو سرکلز کے مجموعی طور پر 349 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ اس آفت سے 1,78,837 افراد متاثر ہیں، جبکہ تقریباً 15,060 ہیکٹر زرعی اراضی اب بھی زیر آب ہے۔

ریاستی حکومت نے متاثرین کی امداد کے لیے 44 ریلیف کیمپ اور 17 امدادی تقسیم مراکز سمیت مجموعی طور پر 61 امدادی مراکز فعال رکھے ہیں۔ ان ریلیف کیمپوں میں 11,489 افراد پناہ لیے ہوئے ہیں، جبکہ 5,569 دیگر متاثرین امدادی تقسیم مراکز سے ضروری اشیا حاصل کر رہے ہیں۔

ریلیف اور ریسکیو کارروائیوں میں ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف، فوج، نیم فوجی دستے، فضائیہ، پولیس، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز، ضلعی انتظامیہ، سول ڈیفنس کے تربیت یافتہ رضاکار اور دیگر متعلقہ ادارے حصہ لے رہے ہیں۔ہفتے کے روز ریاستی حکومت نے متاثرہ علاقوں میں طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے 79 میڈیکل ٹیمیں تعینات کیں، جبکہ امدادی کارروائیوں کے لیے تین کشتیاں بھی استعمال کی گئیں۔سیلاب کے باعث ریاست میں سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، جس کی بحالی کا کام بھی جاری ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande