
جودھ پور، 02 اگست (ہ س)
۔ سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے بی جے پی پر ان کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور کانگریس میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے کبھی بھی ریاستی کانگریس صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا پر ٹرانسفر پوسٹنگ میں بدعنوانی کا الزام نہیں لگایا۔ بی جے پی جھوٹا بیانیہ بنا کر کانگریس رہنماوں کو آپس میں لڑانے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اتوار کو جودھ پور میں واقع سرکٹ ہاوس میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے گہلوت نے کہا کہ بڑلا آڈیٹوریم میں منعقدہ اساتذہ کی کانفرنس کے دوران انہوں نے صرف نارمل طور پر یہ پوچھا تھا کہ کیا ٹرانسفر میں بدعنوانی ہوتی ہے۔ اس پر وہاں موجود اساتذہ نے ’ہاں‘ میں جواب دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ راجستھان میں چاہے کانگریس کی حکومت رہی ہو یا بی جے پی کی، محکمہ تعلیم میں ٹرانسفر اور پوسٹنگ کو لے کر بدعنوانی کے چرچے ہمیشہ ہوتے رہے ہیں۔
گہلوت نے بتایا کہ ان کے سوال کے فوراً بعد گووند سنگھ ڈوٹاسرا نے اسٹیج سے کہا تھا کہ اگر انہوں نے یا ان کے اسٹاف نے کسی سے ایک روپیہ بھی لیا ہو تو کوئی سامنے آ کر بتائے۔ اس وقت وہاں موجود کسی بھی استاد نے اس پر اتفاق ظاہر نہیں کیا تھا۔ اس کے باوجود بی جے پی مسلسل ڈوٹاسرا پر جھوٹے الزامات لگا کر انہیں بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج تک کسی نے ان سے یہ نہیں کہا کہ ڈوٹاسرا نے ٹرانسفر یا پوسٹنگ کے بدلے پیسے لیے ہیں۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ انہوں نے کبھی بھی ڈوٹاسرا پر کوئی الزام نہیں لگایا اور بی جے پی کا مقصد صرف ریاستی کانگریس صدر کی شبیہ خراب کرنا ہے۔
جلسوں میں لگ رہے ’چوتھی بار گہلوت حکومت‘ کے نعروں پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایسے نعرے سن کر انہیں بے چینی محسوس ہوتی ہے اور وہ کارکنوں کو روکنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ تاہم یہ کارکنوں کے جذبات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ہائی کمان ٹکٹ کی تقسیم اور تنظیم سے جڑے فیصلے مسلسل سروے کی بنیاد پر کرتی ہے۔ گہلوت نے دعویٰ کیا کہ راجستھان کے عوام موجودہ بی جے پی حکومت سے ناراض ہیں اور آئندہ اسمبلی انتخابات میں ریاست میں کانگریس کی حکومت بننے کے پورے امکانات ہیں۔ انہوں نے حد بندی کے معاملے پر بھی بی جے پی پر جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کا الزام لگایا۔
وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما کے ’’جادوگری نہیں، ہیرا پھیری‘‘ والے بیان پر جوابی حملہ کرتے ہوئے گہلوت نے کہا کہ ہیرا پھیری تو موجودہ حکومت کر رہی ہے اور عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جادو ہندوستان کا قدیم اور دنیا بھر میں مشہور فن ہے، اس لیے انہیں جادوگر کہنا توہین نہیں بلکہ ریاست کے عوام کا پیار اور احترام ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کانگریس حکومت کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے منریگا کی طرز پر شہری روزگار اسکیم شروع کی تھی، جس سے ہزاروں غریب خاندانوں کو فائدہ ملا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت نے صرف اسکیموں کے نام بدل دیے ہیں، جبکہ مزدوروں، ٹھیکیداروں اور مختلف شعبوں کی ادائیگی مہینوں سے التوا کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹا مہم پوری طرح ٹھپ ہو گئی ہے۔ آر جی ایچ ایس کے تحت منسلک اسپتالوں کو وقت پر ادائیگی نہیں ملنے سے مریضوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ ریٹائرڈ ملازمین کے جی پی ایف اور دیگر واجبات کی ادائیگی بھی اٹکی ہوئی ہے۔
سرکٹ ہاوس میں ادے مندر علاقے کے کچھ لوگ آلودہ پینے کے پانی کی بوتل لے کر گہلوت سے ملنے پہنچے۔ پانی دیکھ کر انہوں نے حکومت کو نشانے پر لیتے ہوئے کہا کہ ایسا پانی کوئی پی بھی نہیں سکتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شہر میں مہینے میں صرف نو دس دن ہی پینے کے پانی کی سپلائی ہو رہی ہے۔ گہلوت نے کہا کہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے وقت برسوں کی محنت سے تیار کیا گیا پانی کی سپلائی کا نظام بھی موجودہ حکومت سنبھالنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ سے پورے معاملے کی جانچ کرانے اور حکومت سے فوری حل کا مطالبہ کیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن