
ریاض،یکم اگست(ہ س)۔ برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کے تسلسل کے دوران امریکہ اور اسرائیل اب ایران پر بری ناکہ بندی عائد کرنے کے امکان کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ تجویز اس وقت سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو معمول پر لانے کے لیے واشنگٹن کے پہلے سے زیر استعمال متعدد اقدامات مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ منصوبے کے تحت ایران کے پڑوسی ممالک پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں سے ایران کے ساتھ تجارتی اور نقل و حمل کے راستوں کو محدود یا بند کریں، تاکہ تہران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھایا جا سکے۔
اخبار کے مطابق پاکستان اور عراق ایسے ممالک ہیں جہاں اس منصوبے پر عمل درآمد نسبتاً مشکل ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ انہیں خطے میں امریکہ کے قریبی اتحادیوں میں شمار نہیں کیا جاتا۔ اس کے علاوہ آذربائیجان، آرمینیا، افغانستان، ترکمانستان اور ترکیہ بھی اس منصوبے سے متاثر ہو سکتے ہیں اور انہیں ایران کی ممکنہ جوابی کارروائیوں، حتیٰ کہ فوجی ردعمل، کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایک تجویز 10 سے 14 روز تک جاری رہنے والی وسیع فضائی مہم کی ہے، جبکہ دوسرا آپشن محدود فوجی کارروائی کے ذریعے سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے کا ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ(سینٹ کام) کے سربراہ ایڈمرل براڈ کوپر نے پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈ مراکز، میزائل تنصیبات اور ڈرون نظام کو نشانہ بنانے کے لیے ایک جامع فضائی منصوبہ تیار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد ایران کی میزائل صلاحیت کو کمزور کرنا اور مستقبل میں امریکی دفاعی وسائل پر انحصار میں کمی لانا ہے۔
تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب تک کسی حتمی حکمت عملی کا اعلان نہیں کیا۔ اطلاعات کے مطابق وہ ایک جانب وسیع فضائی مہم اور دوسری جانب محدود فوجی ردعمل کے ذریعے سفارتی مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے جیسے دو متبادل آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان، جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے، نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ امریکی حملوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور صورتحال کو پُرامن بنانے کے لیے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan