اسپین سے 48 ہزار سے زائد تارکین وطن مراکش واپس لوٹے، ٹرمپ نے ہسپانوی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا
میڈرڈ، یکم اگست(ہ س)۔ شمالی افریقہ میں واقع اسپین کے خودمختار علاقے سیوٹا میں تارکینِ وطن کی بڑی تعداد میں آمد کے بعد صورتحال بتدریج معمول پر آنا شروع ہو گئی ہے۔ ہسپانوی حکومت کے مطابق سرحد عبور کرنے والے تقریباً 60 ہزار تارکینِ وطن میں سے 48 ہزار
اسپین سے 48 ہزار سے زائد تارکین وطن مراکش واپس لوٹے، ٹرمپ نے ہسپانوی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا


میڈرڈ، یکم اگست(ہ س)۔ شمالی افریقہ میں واقع اسپین کے خودمختار علاقے سیوٹا میں تارکینِ وطن کی بڑی تعداد میں آمد کے بعد صورتحال بتدریج معمول پر آنا شروع ہو گئی ہے۔ ہسپانوی حکومت کے مطابق سرحد عبور کرنے والے تقریباً 60 ہزار تارکینِ وطن میں سے 48 ہزار 300 سے زائد افراد رضاکارانہ طور پر واپس مراکش لوٹ چکے ہیں۔

فرانسیسی سرکاری بین الاقوامی نیوز چینل فرانس 24 کے مطابق اسپین کی وزارتِ داخلہ نے بتایا کہ جمعرات کی صبح سے ہزاروں افراد خشکی اور سمندر کے راستے سیوٹا پہنچے، جس کے باعث علاقے میں افراتفری اور انسانی بحران جیسی صورتحال پیدا ہو گئی۔

صورتحال پر قابو پانے کے لیے مراکش کی سکیورٹی فورسز نے سرحدی علاقوں میں لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا اور مزید تارکینِ وطن کو سرحد عبور کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لائن نے اس صورتحال کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین میں قوانین اور ضوابط کی پابندی کے بغیر کسی کو داخلے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

دوسری جانب اٹلی نے اسپین کو شینگن فری موومنٹ زون سے معطل کرنے کا مطالبہ کیا، جس کی بعد میں فن لینڈ اور ڈنمارک نے بھی حمایت کی۔ ادھر جرمنی کے چانسلر فریڈرش میرتس نے مراکش سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر قانونی تارکینِ وطن کو فوری طور پر واپس قبول کرے۔فرانس اور برطانیہ نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے اسپین کو تعاون کی پیشکش کی ہے، جبکہ فرانس نے اسپین سے ملحق اپنی سرحد پر سکیورٹی جانچ مزید سخت کر دی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس بحران پر ہسپانوی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ریاست میری لینڈ کے کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ کے اجلاس کے دوران انہوں نے کہا کہ سیوٹا میں پیدا ہونے والی صورتحال بے قابو ہجرت کے خطرات کی واضح مثال ہے۔ ان کے بقول،’میں نے اسپین میں ہونے والی تباہی دیکھی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے لاکھوں افراد نے کسی ملک پر دھاوا بول دیا ہو۔ اگر درست پالیسیاں اختیار نہ کی گئیں تو امریکہ میں اس سے بھی زیادہ سنگین حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔‘

امریکی محکمہ خارجہ نے بھی ایک بیان میں اسپین کی حکومت پر یورپ میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی ہجرت کی حوصلہ افزائی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس معاملے پر اپنے اتحادیوں کے ساتھ ممکنہ اقدامات پر غور کر رہا ہے۔

یورپ کی متعدد دائیں بازو کی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی اس بحران پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ جرمنی کی آلٹرنیٹو فار جرمنی (اے ایف ڈی) پارٹی کی شریک سربراہ ایلس وائیڈل نے کہا کہ بڑی تعداد میں تارکینِ وطن کی آمد پورے یورپ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اسی طرح اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی اور جمہوریہ چیک کے وزیر اعظم آندریج بابش نے بھی اسپین کی امیگریشن پالیسی پر سوالات اٹھائے۔

تاہم ہسپانوی حکومت کا کہنا ہے کہ صورتحال تیزی سے معمول پر آ رہی ہے اور بڑی تعداد میں تارکینِ وطن رضاکارانہ طور پر مراکش واپس جا چکے ہیں۔ حکومت نے بعض ممالک پر اس انسانی بحران کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande