نیپال-بھارت سرحد سے متعلق تکنیکی مذاکرات:لکھنؤ میں سروے حکام کی اہم میٹنگ 12 اگست سے
کاٹھمنڈو، یکم اگست (ہ س)۔ نیپال اور بھارت کے درمیان سرحدی امور سے متعلق تکنیکی معاملات پر غور کے لیے سروے آفیسرز کمیٹی (ایس او سی) کا 13واں اجلاس 12 سے 14 اگست تک بھارت کے شہر لکھنؤ میں منعقد ہوگا۔ اس اجلاس میں بارڈر ورکنگ گروپ (بی ڈبلیو جی) کے سات
نیپال-بھارت سرحد سے متعلق تکنیکی مذاکرات:لکھنؤ میں سروے حکام کی اہم میٹنگ 12 اگست سے


کاٹھمنڈو، یکم اگست (ہ س)۔ نیپال اور بھارت کے درمیان سرحدی امور سے متعلق تکنیکی معاملات پر غور کے لیے سروے آفیسرز کمیٹی (ایس او سی) کا 13واں اجلاس 12 سے 14 اگست تک بھارت کے شہر لکھنؤ میں منعقد ہوگا۔ اس اجلاس میں بارڈر ورکنگ گروپ (بی ڈبلیو جی) کے ساتویں اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے مجوزہ منصوبہ عمل اور بجٹ کی منظوری دیے جانے کی توقع ہے۔

بارڈر ورکنگ گروپ نیپال اور بھارت کے درمیان سرحد سے متعلق تکنیکی امور کا اعلیٰ ترین دوطرفہ فورم ہے، تاہم سوستا اور کالاپانی کے متنازع سرحدی علاقے اس کے دائرہ کار میں شامل نہیں ہیں۔ نیپالی وفد کی قیادت محکمہ سروے کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سشیل ڈنگول کریں گے۔گزشتہ برس 30 جولائی کو منعقد ہونے والے بی ڈبلیو جی کے ساتویں اجلاس میں دونوں ممالک نے آئندہ تین برس کے اندر نئے سرحدی ستون نصب کرنے، خراب شدہ ستونوں کی مشترکہ مرمت اور دیگر تکنیکی کام مکمل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا تھا کہ دش گجا (سرحدی بفر زون) میں ہونے والی تجاوزات کا ریکارڈ تیار کیا جائے گا، جبکہ دونوں ممالک کے شہریوں کی سرحد پار واقع جائیدادوں کی تفصیلات بھی مرتب کی جائیں گی۔طے شدہ مدت کے دو سال مکمل ہو چکے ہیں، اس لیے اب باقی ایک سال کے لیے نئی حکمت عملی اور منصوبہ عمل تیار کیا جائے گا۔نیپال کی جانب سے 2020 میں نیا سیاسی نقشہ جاری کیے جانے کے بعد نیپال-بھارت سرحدی تنازع دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک اہم موضوع بن گیا تھا، اگرچہ تکنیکی سطح پر سرحدی امور سے متعلق کام اس سے پہلے بھی جاری تھا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande