بھیونڈی میں چار منزلہ عمارت منہدم، 9 افراد ہلاک، کئی کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ
خطرناک قرار دی گئی عمارت کو پہلے ہی خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا تھاممبئی ، 31 جولائی (ہ س)۔ مہاراشٹر کے ضلع تھانے کے بھیونڈی علاقے کے بالاجی نگر۔گنگا رام واڑی میں واقع چار منزلہ کوہ نور اپارٹمنٹ گزشتہ شب اچانک منہدم ہو گیا، جس کے نتیجے میں ا
ACCIDENT MAHA BHIWANDI BUILDING COLLAPSE


خطرناک قرار دی گئی عمارت کو پہلے ہی خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا تھاممبئی ، 31 جولائی (ہ س)۔ مہاراشٹر کے ضلع تھانے کے بھیونڈی علاقے کے بالاجی نگر۔گنگا رام واڑی میں واقع چار منزلہ کوہ نور اپارٹمنٹ گزشتہ شب اچانک منہدم ہو گیا، جس کے نتیجے میں اب تک 9 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ امدادی ٹیمیں مسلسل ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔ تھانے ضلع کے ڈپٹی کلکٹر سندیپ مانے نے جمعہ کو بتایا کہ تمام مہلوکین کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی ہے۔ تمام لاشوں کو اندرا گاندھی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ ملبے میں پھنسے دیگر افراد کی تلاش جاری ہے۔

حکام کے مطابق جائے حادثہ کی تنگ گلیوں کے باعث میونسپل کارپوریشن کے فائر بریگیڈ کو ابتدائی مرحلے میں امدادی کارروائی شروع کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں جے سی بی مشین کی مدد سے راستے میں واقع ایک پرانی چال ہٹا دی گئی، جس کے بعد ریسکیو آپریشن شروع کیا جا سکا۔ موقع پر نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس، تھانے ڈیزاسٹر ریسپانس فورس، مقامی فائر بریگیڈ اور دیگر متعلقہ ایجنسیوں کی ٹیمیں مشترکہ طور پر امدادی اور بچاؤ کارروائیاں انجام دے رہی ہیں۔ جائے حادثہ پر ایک ڈاگ اسکواڈ، فائر بریگیڈ کی چار گاڑیاں، دو ایمبولینسیں اور بھاری ارتھ موونگ مشینری بھی تعینات کی گئی ہے۔

بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کے اسسٹنٹ کمشنر اروند گھوگرے نے بتایا کہ کوہ نور اپارٹمنٹ 2012 میں تعمیر کیا گیا تھا۔ عمارت کو پہلے ہی خطرناک قرار دے کر خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا جا چکا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ عمارت کے ایک ونگ کے گراؤنڈ فلور پر خراب ستونوں کی مرمت کا کام جاری تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جمعرات کی شام تقریباً 6 بجے عمارت میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئی تھیں، جبکہ رات تقریباً 8 بجے اس کے جھکنے کی اطلاع ملنے پر وہ اپنی ٹیم کے ساتھ موقع پر پہنچے اور عمارت کو خالی کرایا گیا، تاہم تمام رہائشی باہر نہیں نکل سکے۔ دیر رات عمارت اچانک زمین بوس ہو گئی، جس کے بعد بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔

مقامی رکن اسمبلی مہیش چوہگلے نے بتایا کہ این ڈی آر ایف، ٹی ڈی آر ایف اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں مشترکہ طور پر ملبے میں دبے افراد کو بحفاظت نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں اور یہی اس وقت اولین ترجیح ہے۔ واقعے میں محفوظ بچ جانے والے اروند گپتا نے بتایا کہ عمارت گرنے سے قبل وہ اور ان کی اہلیہ باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے، لیکن ان کی بیٹی کومل ملبے تلے دب گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک کومل کا کوئی سراغ نہیں ملا، جس کے باعث پورا خاندان شدید تشویش میں مبتلا ہے۔

بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کے میئر نارائن چودھری نے بتایا کہ متاثرہ خاندانوں کے لیے قریبی کمیونٹی ہالوں اور اسکولوں میں عارضی رہائش کا انتظام کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سانحے کے بعد شہر کی دیگر خطرناک عمارتوں کو خالی کرانے کی کارروائی بھی تیز کر دی گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande