ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کی فیڈرل ورکنگ کمیٹی کی اہم قراردادیں منظور
نئی دہلی، 26 جولائی(ہ س )۔ ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کی وفاقی ورکنگ کمیٹی کا دو روزہ اجلاس 25 اور 26 جولائی 2026 کو نئی دہلی میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر رئیس الدین نے کی، جب کہ کارروائی قومی جنرل سکریٹری (تنظیم) ڈاکٹر سید قا
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کی فیڈرل ورکنگ کمیٹی کی اہم قراردادیں منظور


نئی دہلی، 26 جولائی(ہ س )۔

ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کی وفاقی ورکنگ کمیٹی کا دو روزہ اجلاس 25 اور 26 جولائی 2026 کو نئی دہلی میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر رئیس الدین نے کی، جب کہ کارروائی قومی جنرل سکریٹری (تنظیم) ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے چلائی۔ قومی جنرل سکریٹری محترمہ شیما محسن نے مختلف قومی، سیاسی اور عوامی مسائل سے متعلق قراردادیں ایوان کے سامنے پیش کیں۔ تفصیلی بحث و تمحیص کے بعد تمام قراردادیں متفقہ طور پر منظور کر لی گئیں۔

1۔ خصوصی نظرِ ثانی برائے ووٹر فہرست (SIR):

وفاقی ورکنگ کمیٹی نے کہا کہ اسپیشل اِنٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے نام پر ووٹر فہرستوں سے من مانے انداز میں نام خارج کیے جا رہے ہیں، جبکہ پورا عمل غیر شفاف، غیر جواب دہ اور آئینی تقاضوں سے عاری ہے۔ اس کارروائی کا سب سے زیادہ نشانہ مہاجر مزدور، اقلیتی برادریاں اور سماج کے محروم طبقات بن رہے ہیں۔ انتخابات سے قبل اس عمل کے ذریعے خوف، بے یقینی اور بداعتمادی کی فضا پیدا کی جا رہی ہے۔

مطالبہ: ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کا مطالبہ ہے کہ ووٹر فہرستوں کی نظرِ ثانی مکمل شفافیت، غیر جانب داری اور آئینی تحفظات کے ساتھ کی جائے۔ کسی بھی اہل ووٹر کا نام بلا جواز حذف نہ کیا جائے۔ الیکشن کمیشن ضلع وار اعداد و شمار جاری کرے اور گھر گھر جا کر تصدیق کے عمل کو یقینی بنائے۔

2۔ حلقہ بندی:کمیٹی نے نئی مردم شماری کی بنیاد پر مجوزہ حلقہ بندی کو وفاقی ڈھانچے، جمہوری نمائندگی اور سماجی انصاف کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ یہ عمل جنوبی ریاستوں کو غیر منصفانہ طور پر نقصان پہنچائے گا، اقلیتوں اور کمزور طبقات کی نمائندگی متاثر ہوگی، جبکہ ان ریاستوں کو سزا ملے گی جنہوں نے آبادی پر مو¿ثر کنٹرول قائم کیا اور ترقیاتی شعبوں میں بہتر کارکردگی دکھائی۔

مطالبہ: پارٹی نے مطالبہ کیا کہ حلقہ بندی کے عمل کو فوری طور پر منجمد کیا جائے۔ کسی بھی ریاست کی موجودہ پارلیمانی نشستوں میں کمی نہ کی جائے، اور اس حساس معاملے پر کسی بھی فیصلے سے قبل آل پارٹی اجلاس بلا کر قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے۔

3۔ طلبہ کی تاریخی تحریک:وفاقی ورکنگ کمیٹی نے طلبہ کی بے مثال جرا?ت، استقامت اور جمہوری جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پرامن تحریک نے نہ صرف مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا بلکہ ملک کے امتحانی نظام میں پھیلی بدعنوانی اور نوجوانوں کو درپیش بے روزگاری کے سنگین بحران کو بھی پوری شدت کے ساتھ بے نقاب کر دیا۔ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے بجائے لاٹھی، آنسو گیس اور طاقت کے استعمال کو جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا گیا۔اس کے علاوہ بھی دیگر مطالبات حکومت کو پیش کئے گئے جسے ذمہ داران نے اتفاق رائے سے منظور کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande