نیٹ پیپر لیک پر پر تشدد احتجاج: کولکاتا پولیس نے مزید دو ملزمان کو گرفتار کیا، گرفتاریوں کی تعداد 16 ہوگئی
کولکاتا، 27 جولائی (ہ س)۔ کولکاتا پولیس نے پیر کونیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کے دوران پھوٹ پڑے تشدد کے سلسلے میں دو اور ملزمین کو گرفتار کیا۔ اس طرح اس کیس میں گرفتاریوں کی کل تعداد 16 ہوگئی ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت پارک سرکس کے ع
WB-CJP-NEET-paper-leak-protest


کولکاتا، 27 جولائی (ہ س)۔ کولکاتا پولیس نے پیر کونیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کے دوران پھوٹ پڑے تشدد کے سلسلے میں دو اور ملزمین کو گرفتار کیا۔ اس طرح اس کیس میں گرفتاریوں کی کل تعداد 16 ہوگئی ہے۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت پارک سرکس کے علاقے کرایا کے رہائشی وقار اعظم (35) اور گارڈن ریچ کے ندیال تھانے کے علاقے رہائشی جاوید اختر (32) کے نام سے ہوئی ہے۔ تحقیقاتی ایجنسیوں کا الزام ہے کہ دونوں نے احتجاج کے دوران تشدد اور توڑ پھوڑ میں سرگرم کردار ادا کیا۔

پولیس پیر کے روز گرفتار کیے گئے پانچ ملزمین کو ایسپلانیڈ پر ڈورینا کراسنگ لے گئی، جہاں واقعات کو ری-کریئیٹ کیا گیا۔ ملزمین کو پولیس کی نگرانی میں پیدل جائے وقوعہ پر پہنچایا گیا۔ پولیس افسران نے اس طریقہ کار کو واقعات کی ترتیب اور ہر ملزم کے کردار کی تصدیق کے لیے استعمال کیا۔

پولیس حکام نے بتایا کہ تفتیش ویڈیو فوٹیج، ڈیجیٹل شواہد اور عینی شاہدین کے اکاو¿نٹ کی بنیاد پر جاری ہے۔ دیگر افراد کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا تو مزید گرفتاریاں کی جائیں گی۔

جائے وقوعہ پر لے جانے والے پانچ ملزمین میں محمد افروز بھی شامل تھا۔ وزیر اعلی شبھیندو ادھیکاری نے بھی اسمبلی میں تشدد میں ملوث افراد کا ذکر کرتے ہوئے افروز کے نام کا ذکر کیا تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ احتجاج کے دوران تشدد پہلے سے منصوبہ بند تھا۔

ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ تشدد میں شناخت کیے گئے کم از کم 70 افراد نہ تو طالب علم ہیں اور نہ ہی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے رکن ہیں۔ ان کا نیٹ پیپر لیک مخالف تحریک سے بھی براہ راست کوئی تعلق نہیں تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات غیر جانبداری سے کی جا رہی ہیں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے اور تشدد میں ملوث کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا، خواہ اس کا تعلق کسی بھی تنظیم سے ہو۔

ریاستی حکومت نے اس معاملے میں حال ہی میں نافذ کیے گئے مغربی بنگال پبلک سیفٹی اینڈ کنٹرول آف اینٹی سوشل ایکٹیویٹیز ایکٹ 2026 کے تحت کارروائی شروع کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے تشدد کے ذمہ داروں کے خلاف اس نئے قانون کے تحت سخت کارروائی کا انتباہ بھی دیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی ) اور دیگر بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں نے نیٹ پیپر لیک ہونے کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا اور مرکزی وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے بھی شہر میں ایک الگ مظاہرہ کیا۔

احتجاج کے دوران کئی صحافیوں پر حملہ کیا گیا، ان پر جوتے اور بوتلیں پھینکی گئیں۔ پولیس کے مطابق ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں پر حملے کی کوشش بھی کی گئی۔ تشدد کے سلسلے میں ہیئر اسٹریٹ اور اینٹلی پولیس اسٹیشنوں میں کل سات ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande