طلبہ اور نوجوانوں کے خلاف جبرو تشدد ناقابلِ برداشت
تمام بے گناہ گرفتار افراد کو فوری رہا کیا جائے: مولانا سید طارق انور نئی دہلی، 27/ جولائی (ہ س)۔ نوجوان اسلامی اسکالر، سیاسی تجزیہ کار اور دانشور مولانا سید طارق انورنے نیٹ پیپر لیک معاملے پر ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج کرنے والے طلبہ و نوجوانوں
طلبہ اور نوجوانوں کے خلاف جبرو تشدد ناقابلِ برداشت


تمام بے گناہ گرفتار افراد کو فوری رہا کیا جائے: مولانا سید طارق انور

نئی دہلی، 27/ جولائی (ہ س)۔

نوجوان اسلامی اسکالر، سیاسی تجزیہ کار اور دانشور مولانا سید طارق انورنے نیٹ پیپر لیک معاملے پر ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج کرنے والے طلبہ و نوجوانوں کے خلاف پولیس کارروائیوں، اندھا دھند گرفتاریوں، تشدد اور ہراسانی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوری ہندوستان میں اختلافِ رائے کو طاقت کے زور پر کچلنے کی یہ روش نہ صرف آئینِ ہند کی روح کے خلاف ہے بلکہ ملک کے جمہوری تشخص پر ایک سیاہ دھبہ بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے لاکھوں نوجوان پہلے ہی نیٹ پیپر لیک جیسے سنگین اسکینڈل سے ذہنی اذیت اور مایوسی کا شکار ہیں، لیکن ان کے جائز سوالات کا جواب دینے، مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے اور نظامِ تعلیم کو شفاف بنانے کے بجائے حکومت اور بعض ریاستی انتظامیہ نے احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو ہی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ یہ انتہائی افسوس ناک اور قابلِ مذمت طرزِ عمل ہے۔

مولانا سید طارق انور نے کہا کہ مختلف ریاستوں، خصوصاً بہار، مغربی بنگال، مہاراشٹر اور اترپردیش سے آنے والی اطلاعات نہایت تشویش ناک ہیں۔ متعدد مقامات پر ایسے نوجوانوں کو بھی گرفتار کیا گیا جو احتجاج میں شریک ہی نہیں تھے بلکہ محض اپنے گھروں کو واپس جا رہے تھے یا میٹرو اسٹیشنوں کی طرف آ رہے تھے۔ بعض مقامات پر طبی امداد فراہم کرنے والے رضاکاروں اور زخمی طلبہ کی مدد کرنے والوں کو بھی کارروائیوں کی زد میں لایا گیا۔ یہ ریاستی طاقت کے بے جا استعمال کی ایک سنگین مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ بعض مسلم اکثریتی علاقوں میں پولیس کی کارروائیوں کے حوالے سے امتیازی رویے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ایک ایسے نوجوان کوجس نے ایک ماہ تک احتجاجی طلبہ کو کھانا فراہم کیا، ان کی خدمت کی اور انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کیا،اسے مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے، حتیٰ کہ اس کے والدین، بہن بھائی، سسرال اور دیگر رشتہ داروں کو بھی دباو¿میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر ریاستی ادارے اجتماعی سزا کا راستہ اختیار کریں گے تو یہ قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ خوف کی حکمرانی ہوگی۔

مولانا سید طارق انور نے کہا کہ مزید افسوس ناک امر یہ ہے کہ احتجاج سے واپس آنے والے بعض نوجوانوں پر شرپسند عناصر کے حملوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، مگر متاثرین کی ایف آئی آر تک درج نہیں کی جا رہی۔ قانون کا تقاضا یہ ہے کہ ظلم کرنے والے خواہ کوئی بھی ہوں، ان کے خلاف یکساں کارروائی ہو، نہ کہ مظلوم ہی انصاف کے دروازے پر دھکے کھاتا پھرے۔ اگر ریاست خود انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہے تو عوام کے اندر بے اعتمادی اور اضطراب پیدا ہونا فطری امر ہے۔ مولانا سید طارق ناور نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں، مذہبی و سماجی اداروں، وکلائ ، اساتذہ، دانشوروں اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ خاموش تماشائی بننے کے بجائے آئین، جمہوریت اور شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کریں۔ اگر آج طلبہ اور نوجوانوں کی آواز کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش پر خاموشی اختیار کی گئی تو کل یہی خاموشی جمہوری ہندوستان کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande