
ایم پی ایس سی ڈرگ انسپکٹر امتحان میں مبینہ پرچہ لیک، روہت پوار کا 12 لاکھ روپے میں پرچہ فروخت ہونے کا دعویٰممبئی، 27 جولائی (ہ س)۔ نیٹ پرچہ لیک معاملے کے بعد مہاراشٹر میں ایک اور بھرتی امتحان تنازع کا شکار ہو گیا ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار گروہ) کے رکن اسمبلی روہت پوار نے مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن (ایم پی ایس سی) کے ڈرگ انسپکٹر بھرتی امتحان میں مبینہ پرچہ لیک اور بے ضابطگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سوالیہ پرچہ 12 لاکھ روپے میں فروخت کیا گیا تھا۔ ان الزامات کے بعد ایم پی ایس سی نے معاملے کی باضابطہ جانچ شروع کر دی ہے۔روہت پوار نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں مبینہ گھوٹالے سے متعلق تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ڈرگ انسپکٹر امتحان کا پرچہ 12 لاکھ روپے میں فروخت کیا گیا، جس میں 5 لاکھ روپے پیشگی وصول کیے گئے، جبکہ باقی 7 لاکھ روپے بعد میں ادا کیے جانے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2026 کے دوران ریاست میں ٹی ای ٹی، نیٹ اور ایس آر پی ایف سمیت متعدد امتحانات کے پرچے لیک ہوئے، جبکہ محکمہ خوراک و ادویات (ایف ڈی اے) کے ڈرگ انسپکٹر امتحان میں بھی مبینہ طور پر پرچہ لیک کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسی طرح پرچے خرید کر لوگ سرکاری عہدوں پر پہنچیں گے تو عوامی نظام پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔روہت پوار نے کہا کہ نندوربار کی کوٹلیہ اکیڈمی سے وابستہ ایک شخص نے سوالیہ پرچہ لیک کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پورا ایم پی ایس سی کا پرچہ لیک ہوا، بلکہ جس شخص نے سوالیہ پرچہ تیار کیا، اسی نے اسے لیک کیا۔ ان کے مطابق پرچہ پہلے ایک شخص کو دیا گیا، جس نے بعد میں واٹس ایپ کے ذریعے منتخب افراد کو سوالات بھیجے اور تقریباً پانچ منٹ بعد انہیں ڈیلیٹ فار آل کر دیا۔انہوں نے بتایا کہ جن امیدواروں کو سوالات بھیجے گئے تھے، ان میں سے ایک نے وہ سوالات اپنے دوست کو فارورڈ کر دیے، جس کے باعث پورا معاملہ سامنے آ گیا۔ روہت پوار کے مطابق امیدواروں کو جان بوجھ کر دس سوالات غلط حل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی تاکہ کسی کو شبہ نہ ہو۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے سے متعلق ایک واٹس ایپ چیٹ بھی سامنے آئی ہے، جس میں ایک امیدوار نے لکھا کہ اس نے 78 سوالات پہلے سے حل کیے تھے، جبکہ باقی سوالات امتحان کے دوران اپنی سمجھ بوجھ سے حل کیے۔روہت پوار نے مزید الزام لگایا کہ نندوربار کے ایک نائب تحصیلدار کے بیٹے نے امتحان میں 13 واں اور ایک طالبہ نے 16 واں رینک حاصل کیا، جس سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب کٹ آف 105 نمبروں پر تھی تو 103 نمبر حاصل کرنے والے امیدوار کو انٹرویو کے لیے کیسے بلایا گیا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے میں بارشی کنکشن بھی سامنے آیا ہے۔ ان کے مطابق ایک طالب علم نے 21 جولائی کو ایم پی ایس سی کو تحریری شکایت دی تھی، لیکن اس پر کارروائی کرنے کے بجائے اسی طالب علم کو پولیس کارروائی کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس پورے معاملے کا اصل ماسٹر مائنڈ کون ہے۔روہت پوار نے کہا کہ 2018 کے ٹی ای ٹی پرچہ لیک معاملے میں جن افراد کے نام سامنے آئے تھے، انہی میں سے پریتیش دیشمکھ، ابھیشیک ساوریکر اور سشیل کھوڈویکر کے نام ایک بار پھر اس معاملے سے جوڑے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹی ای ٹی گھوٹالے کا ایک ملزم بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ ہے اور ابھیشیک ساوریکر ایک سیاسی رہنما کے مالی معاملات بھی سنبھالتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان تمام روابط کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔روہت پوار نے اعلان کیا کہ وہ ایم پی ایس سی کے دفتر جائیں گے اور محکمہ خوراک و ادویات کے کمشنر توکارام منڈھے سے بھی ملاقات کریں گے تاکہ پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جا سکے۔دوسری جانب مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن نے ڈرگ انسپکٹر بھرتی امتحان میں مبینہ پرچہ لیک اور نمبروں میں مبینہ رد و بدل کے الزامات کی حقیقت جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ایم پی ایس سی کے مطابق یہ امتحان 22 مارچ 2026 کو منعقد ہوا تھا اور پورے معاملے کے تمام پہلوؤں کی جانچ کی جا رہی ہے۔ہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے