
اب ای ٹوئنٹی جنتا پارٹی میدان میں، ای ٹوئنٹی ایندھن کے خلاف ایک نئی مہم۔ ای ٹوئنٹی مہم کے دوران نتن گڈکری بامبے ہائی کورٹ سے رجوع، عدالت سے ملی راحتممبئی ، 27 جولائی (ہ س) نیٹ پرچہ لیک معاملے پر سی پی جی تحریک کے بعد ملک میں ای ٹوئنٹی ایندھن کے خلاف ایک نئی مہم زور پکڑ رہی ہے۔ اس مہم کے منتظمین نے مرکزی وزیر نتن گڈکری کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے گھیراؤ کا اعلان کیا ہے۔ اسی دوران بامبے ہائی کورٹ نے نتن گڈکری کو اہم قانونی راحت دیتے ہوئے ان کے خلاف سوشل میڈیا پر مبینہ گمراہ کن اور ہتک آمیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی اجازت دے دی ہے۔سی پی جی تحریک کے بعد سوشل میڈیا پر ای ٹوئنٹی ایندھن کے خلاف مہم تیزی سے پھیل رہی ہے۔ آن لائن چلائی جانے والی اس مہم کو بھی بڑے پیمانے پر عوامی حمایت ملنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ ای ٹوئنٹی جنتا پارٹی نامی سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو لاکھوں افراد فالو کر رہے ہیں۔ اس مہم میں الزام لگایا جا رہا ہے کہ ای ٹوئنٹی ایندھن گاڑیوں کے انجن کو نقصان پہنچاتا ہے، جبکہ نتن گڈکری اور ان کے خاندان کی کمپنی کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ان الزامات کے بعد نتن گڈکری نے بامبے ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے ہتک عزت اور مبینہ جھوٹے پروپیگنڈے کے خلاف قانونی تحفظ کی درخواست دائر کی تھی۔ عدالت نے ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے گڈکری کو دیوانی مقدمہ دائر کرنے کی اجازت دے دی۔ جسٹس ابھیئے آہوجا نے اپنے حکم میں کہا کہ نتن گڈکری کے خلاف ای ٹوئنٹی ایتھنول پالیسی کے نام پر مبینہ گمراہ کن دعوے، ڈیپ فیک ویڈیوز اور ہتک آمیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ عدالت نے گڈکری کو نامعلوم مواد تیار کرنے والوں اور گمراہ کن مہم چلانے والے سوشل میڈیا ہینڈلز کے خلاف بھی کارروائی کی اجازت دی ہے۔گڈکری کی جانب سے عدالت میں داخل عرضی میں کہا گیا کہ ای ٹوئنٹی ایتھنول پالیسی کا نفاذ وزارت پیٹرولیم و قدرتی گیس کرتی ہے اور اس پالیسی سے انہیں یا ان کے خاندان کو کسی بھی قسم کا تجارتی یا مالی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر سوشل میڈیا پر نتن گڈکری یا ان کے خاندان کے خلاف جھوٹا، گمراہ کن یا ہتک آمیز مواد شائع کیا جاتا رہا تو متعلقہ افراد کے خلاف ہتک عزت سمیت مناسب قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ادھر ای ٹوئنٹی مہم کے منتظمین نے نتن گڈکری کے استعفے کے مطالبے کو برقرار رکھتے ہوئے پارلیمنٹ کے گھیراؤ کا اعلان دہرایا، جبکہ بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد گمراہ کن مواد پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی راہ بھی ہموار ہو گئی ہے۔ہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے