
بامبے ہائی کورٹ نے آٹھ دودھ ڈیریوں کے خلاف ایف ڈی اے کی کارروائی پر عبوری روک لگائی ۔ عدالت نے لائسنس معطلی سے قبل قانونی طریقہ کار پر سوالات اٹھائے، ڈیریوں کو عبوری راحتاورنگ آباد، 27 جولائی (ہ س)۔ بامبے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ نے ریاست بھر میں ملاوٹ کے خلاف محکمہ خوراک و ادویات (ایف ڈی اے) کی مہم کے دوران آٹھ بڑی دودھ ڈیریوں کے خلاف کی گئی کارروائی پر عبوری روک لگا دی ہے۔ عدالت نے ایف ڈی اے کمشنر توکارام منڈھے کی قیادت میں کی گئی کارروائی کے قانونی طریقہ کار پر بھی ابتدائی طور پر سوالات اٹھائے ہیں۔عدالت نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ متعلقہ ڈیریوں کو قواعد کے مطابق خامیوں کی اصلاح کا موقع دیے بغیر براہ راست ان کے لائسنس معطل کرنا بادی النظر میں قانونی طریقہ کار سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اسی بنیاد پر عدالت نے اورنگ آباد ، جالنہ، جلگاؤں اور احمد نگر اضلاع کی آٹھ ڈیریوں کے خلاف ایف ڈی اے کی کارروائی پر عبوری روک عائد کر دی، جس سے ان ڈیریوں کو فوری راحت مل گئی۔ عدالتی فیصلے سے جن ڈیریوں کو راحت ملی ہے ان میں جالنہ ضلع کی سرسوتی ملک پروڈکٹ، اورنگ آباد کی شیو کرپا ڈیری، جلگاؤں کی سرسوتی ملک پروڈکٹ، اہلیہ نگر ضلع کی کرشنانند فوڈ پروڈکٹ، نوناتھ ملک کلیکشن، سدھیشور ملک پروڈکٹ، جتن ملک کلیکشن اور جیہری ملک کلیکشن شامل ہیں۔سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ ایف ڈی اے کے قواعد اور کمشنر کی رہنما ہدایات کے مطابق اگر معائنے کے دوران کسی ڈیری میں کوئی خامی پائی جائے تو متعلقہ ادارے کو قانونی طور پر اسے دور کرنے کے لیے 14 دن کی مہلت دینا ضروری ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایف ڈی اے نے یہ مہلت دیے بغیر براہ راست لائسنس معطل کر دیے، جو قانون کے منافی ہے۔ درخواست گزاروں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ معائنے کے بعد نشاندہی کی گئی بیشتر خامیوں کو پہلے ہی دور کر دیا گیا تھا، اس کے باوجود ان کے لائسنس معطل کر دیے گئے۔تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد بامبے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ نے ایف ڈی اے کی جانب سے جاری کیے گئے لائسنس معطلی کے احکامات پر عبوری روک لگا دی۔ اس فیصلے سے متعلقہ ڈیریوں کو فوری راحت ملی ہے، جبکہ ایف ڈی اے کی کارروائی اور اس کے قانونی جواز کا معاملہ مزید سماعت کے لیے عدالت میں زیر غور رہے گا۔ہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے