تھانے سول اسپتال میں تین برس کے دوران 17 ہزار 330 کامیاب سرجریاں
تھانے سول اسپتال میں تین برس کے دوران 17 ہزار 330 کامیاب سرجریاںممبئی، 27 جولائی (ہ س)۔ تھانے ضلع سول اسپتال ضرورت مند اور معاشی طور پر کمزور مریضوں کے لیے ایک قابل اعتماد طبی مرکز کے طور پر اپنی شناخت مستحکم کر رہا ہے۔ نئے سپر اسپیشلٹی اسپتال
HEALTH THANE CIVIL HOSPITAL SURGERIES


تھانے سول اسپتال میں تین برس کے دوران 17 ہزار 330 کامیاب سرجریاںممبئی، 27 جولائی (ہ س)۔ تھانے ضلع سول اسپتال ضرورت مند اور معاشی طور پر کمزور مریضوں کے لیے ایک قابل اعتماد طبی مرکز کے طور پر اپنی شناخت مستحکم کر رہا ہے۔ نئے سپر اسپیشلٹی اسپتال کی عمارت زیر تعمیر ہونے کے باعث اسپتال اس وقت واگلے اسٹیٹ میں عارضی مقام سے خدمات انجام دے رہا ہے، تاہم اس کے باوجود علاج کے معیار کو برقرار رکھتے ہوئے نمایاں طبی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔اسپتال کے اعداد و شمار کے مطابق 6 جون 2023 سے 30 جون 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 17 ہزار 330 کامیاب سرجریاں انجام دی گئیں۔ ان میں 10 ہزار 821 بڑی اور 6 ہزار 509 چھوٹی سرجریاں شامل ہیں، جو سرکاری شعبۂ صحت میں ایک اہم کامیابی سمجھی جا رہی ہیں۔ تھانے کے ضلع سرجن ڈاکٹر کیلاش پوار اور ایڈیشنل ضلع سرجن ڈاکٹر دھیرج مہانگڑے کی نگرانی میں کئی پیچیدہ آپریشن بھی کامیابی سے کیے جا رہے ہیں، جن کے لیے عام طور پر نجی اسپتالوں میں مریضوں کو لاکھوں روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔حال ہی میں اسپتال کے ماہر ڈاکٹروں نے 49 سالہ خاتون کی تقریباً تین گھنٹے طویل اور نہایت پیچیدہ ریڑھ کی ہڈی کی سرجری کامیابی سے انجام دی۔ اس آپریشن پر نجی اسپتال میں لاکھوں روپے خرچ ہونے کا امکان تھا، تاہم سول اسپتال کے ماہرین کی کوششوں سے مریضہ کا کامیاب علاج ممکن ہوا اور اسے نئی زندگی ملی۔ اسی طرح تمباکو کے استعمال کے باعث زبان کے سرطان میں مبتلا 70 سالہ بزرگ کی انتہائی پیچیدہ کمانڈو سرجری بھی کامیابی سے انجام دی گئی، جس سے مریض کو بڑی راحت ملی۔ اسپتال میں چھ سالہ بچی، جو پیدائشی طور پر جڑی ہوئی انگلیوں کے ساتھ پیدا ہوئی تھی، کی پلاسٹک اور تعمیر نو کی سرجری بھی کامیابی سے کی گئی، جس سے اس کی معمول کی زندگی کی امید دوبارہ روشن ہوئی۔تھانے سول اسپتال میں لیپروٹومی، ہرنیا، سیزیرین سیکشن، آرتھوپیڈک، آنکھ، دانت، کان، ناک اور گلے کی سرجریوں کے علاوہ لیزر اور دوربین کی مدد سے جدید آپریشن بھی باقاعدگی سے کیے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق عارضی عمارت سے خدمات فراہم کرنے کے باوجود علاج کا اعلیٰ معیار، ماہر ڈاکٹروں کی مہارت اور مریضوں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مالی مشکلات کے باعث مہنگے نجی اسپتالوں میں علاج نہ کرا سکنے والے مریضوں کے لیے یہ اسپتال ایک مضبوط سہارا بن گیا ہے۔تھانے کے ضلع سرجن ڈاکٹر کیلاش پوار نے کہا کہ اگرچہ اسپتال عارضی مقام سے کام کر رہا ہے، لیکن ہماری اولین ترجیح مریضوں کو معیاری اور بلا تعطل طبی خدمات فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری طبی ٹیم مسلسل محنت کر رہی ہے تاکہ ہر مریض کو بہترین علاج اور جدید طبی سہولیات بروقت فراہم کی جا سکیں۔ہندوستھان سماچار--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande