
نئی دہلی، 27 جولائی (ہ س)۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) دہلی کے ریاستی صدر ہرش ملہوترا نے عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے قومی کنوینر اور سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال کو پنجاب میں مبینہ پیپر لیک ہونے پر نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیجریوال کا یہ دعویٰ کہ پنجاب میں امتحان کا کوئی پرچہ لیک نہیں ہوا ہے یہ سراسر ڈھٹائی ہے۔
ہرش ملہوترا نے پیر کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پچھلے 15 دنوں سے پنجاب میں فارماسسٹ بھرتی امتحان کا مبینہ پیپر لیک ہونے اور اس سے پہلے کے دو امتحانی پیپر لیک ہونے کا معاملہ پورے ملک میں موضوع بحث ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس دوران مختلف مقامات پر احتجاج کرنے والے طلباء پر لاٹھی چارج کی خبریں بھی منظر عام پر آئیں۔
بی جے پی لیڈر نے کہا کہ پنجاب میں طلباء ریاستی وزیر تعلیم ہرجوت سنگھ بینس کے استعفیٰ کا مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن اروند کیجریوال نے اس مطالبے کو نظر انداز کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی میں طلبہ تحریک کی حمایت کرنے والے اے اے پی لیڈر پنجاب کے مسئلہ پر خاموش رہے۔
ہرش ملہوترا نے کہا کہ گزشتہ ہفتہ کو جنتر منتر پر طلبہ کا احتجاج ختم ہونے کے بعد عام طلبہ اور صحافیوں نے اے اے پی لیڈروں سے پنجاب اور کرناٹک میں مبینہ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کے بارے میں سوال کیا۔ ان کے مطابق، اسی دباو¿ کے تحت اروند کیجریوال نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ پنجاب میں کوئی پیپر لیک نہیں ہوا اور ان کی حکومت نے دھوکہ دہی پر لگام لگائی ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ اگر فارماسسٹ امتحان یا اس سے پہلے کسی اور امتحان کا پیپر پنجاب میں لیک نہیں ہوا تو اس الزام کی تردید میں 15 سے 18 دن کیوں لگے؟ ملہوترا نے کہا کہ کیجریوال کا بیان ان کی حکومت کو بچانے کے لیے ایک آفٹر تھاٹ تھا، جس سے عوام بخوبی واقف ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ