
گوہاٹی، 27 جولائی (ہ س)۔ آسام میں سیلاب کا پانی اب تیزی سے کم ہورہا ہے، تاہم متاثرہ علاقوں کی صورتحال اب بھی نہایت سنگین ہے۔ کھیتوں میں کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں، جبکہ گھروں، سڑکوں اور اسکولوں میں پانی کے ساتھ جمع ہونے والی کیچڑ اور گاد نے نئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ متاثرہ افراد کی زندگی معمول پر لانے کا چیلنج بدستور برقرار ہے۔ اگرچہ ریاستی حکومت ہر ممکن امدادی اقدامات کا دعویٰ کر رہی ہے، لیکن زمینی حالات اب بھی تشویشناک ہیں۔
آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایس ڈی ایم اے) کی جانب سے 26 جولائی کو جاری اعداد و شمار کے مطابق، ریاست میں مزید دو افراد کی موت کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 68 ہو گئی ہے۔ اس دوران دھنسری(نومالی گڑھ) ندی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہیمنت بسوا شرما نے اتوار کی رات سوشل میڈیا پر بتایا کہ ریاستی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے بعد تمام وزرائ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے حالات کا جائزہ لیں گے۔اس وقت ریاست کے نو اضلاع شدید متاثر ہیں، جن میں چرائی دیو، گولاگھاٹ، جورہاٹ، شیوساگر، ہوجائی، کامروپ، ناگون، کامروپ (میٹرو) اور ڈبروگڑھ شامل ہیں۔ سیلاب سے ان اضلاع کے 24 ریونیو سرکلز کے 763 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر 5 لاکھ 24 ہزار 733 افراد متاثر ہیں، جبکہ 48 ہزار 742.09 ہیکٹر زرعی اراضی اب بھی زیرِ آب ہے۔
ریاستی حکومت نے متاثرین کے لیے 109 امدادی کیمپ اور 245 امدادی تقسیم مراکز قائم کیے ہیں، یعنی مجموعی طور پر 345 امدادی مراکز فعال ہیں۔ ان میں 37 ہزار 724 افراد رہائش پذیر ہیں، جبکہ 1 لاکھ 53 ہزار 833 دیگر متاثرین امدادی مراکز سے ضروری اشیائ حاصل کر رہے ہیں۔26 جولائی کو بھی چرائی دیو ضلع میں سیلابی پانی سے دو لاشیں برآمد ہوئیں۔
سیلاب سے 88 ہزار 240 مویشی متاثر ہوئے ہیں، جن میں 45 ہزار 895 بڑے جانور، 26 ہزار 335 چھوٹے جانور اور 16 ہزار 10 پولٹری پرندے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مجموعی طور پر 26 ہزار 512 جانور سیلابی پانی میں بہہ گئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چرائی دیو اور شیوساگر اضلاع میں سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔
26 جولائی تک مکمل طور پر تباہ ہونے والے کچے مکانات کی تعداد 579 ریکارڈ کی گئی ہے، جن میں جورہاٹ کے 19 اور شیوساگر کے 560 مکانات شامل ہیں۔ جزوی طور پر متاثر ہونے والے کچے مکانات کی تعداد 1,560 ہے، جبکہ 51 پکے مکانات کو بھی جزوی نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ شیوساگر میں 250 جھونپڑیاں تباہ ہوئیں اور 792 مویشی شیڈز کو بھی نقصان پہنچا۔امدادی اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف، فوج، نیم فوجی دستے، فضائیہ، پولیس، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز، مقامی انتظامیہ، سول ڈیفنس اور تربیت یافتہ رضاکار حصہ لے رہے ہیں۔
ریاستی حکومت نے متاثرہ علاقوں میں 152 طبی ٹیمیں تعینات کی ہیں۔ امدادی کاموں کے لیے 36 کشتیاں اور دو ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔متاثرین میں حکومت کی جانب سے 3,302.548 کوئنٹل چاول، 590.998 کوئنٹل دال، 177.3761 کوئنٹل نمک، 17,735.95 لیٹر سرسوں کا تیل تقسیم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مویشیوں کے لیے 446.24 کوئنٹل گیہوں کا چوکر اور 146.21 کوئنٹل چاول کا چوکر بھی فراہم کیا گیا ہے۔سیلاب کے باعث سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ ریاستی حکومت مسلسل جائزہ اجلاس منعقد کر کے بحالی اور مرمت کے کاموں کی نگرانی کر رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan