
نئی دہلی، 27 جولائی (ہ س) ۔دہلی پولیس نے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے 37 دن کے طویل احتجاج کے دوران سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف قابل اعتراض پوسٹس، ویڈیوز اور تبصروں کے مبینہ اشتراک کے خلاف کارروائی تیز کردی ہے۔
پولیس نے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز کو نوٹس جاری کیے ہیں، انہیں ہدایت کی ہے کہ وہ تمام مواد ہٹا دیں جس میں مبینہ طور پر گالی گلوچ، توہین آمیزتبصرے یا قابل اعتراض مواد استعمال کیا گیا ہو۔ پولیس نے تحریک سے وابستہ تقریباً 450 سوشل میڈیا اکاونٹس کی بھی نشاندہی کی ہے، جن پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ سنگین جعلی اور گمراہ کن مواد پھیلانے کا الزام ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد کی نگرانی کی مہم جاری ہے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ اس معاملہ کے سلسلے میں متعدد پوسٹس اور ویڈیوز مختلف پلیٹ فارمز پر اپ لوڈ کیے گئے تھے، جن میں سے کئی کو ہٹا دیا گیا ہے۔ دیگر قابل اعتراض مواد کی بھی نشاندہی کی جا رہی ہے اور اسے ہٹانے کا عمل جاری ہے۔
اہلکار کے مطابق، دہلی پولیس نے مختلف سوشل میڈیا کمپنیوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں ہدایت دی ہے کہ وہ وزیر اعظم کے خلاف توہین آمیز، قابل اعتراض تبصروں اورقابل اعتراض مواد والی پوسٹس کو ہٹا دیں۔ پولیس کی سوشل میڈیا مانیٹرنگ ٹیم فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ جیسے ہی کسی قابل اعتراض پوسٹ کی نشاندہی ہوتی ہے، اسے ہٹانے کے لیے متعلقہ پلیٹ فارم کو نوٹس بھیجا جارہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران وزیراعظم کے خلاف نامناسب زبان استعمال کرنے والی متعدد پوسٹس سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ ان پوسٹوں کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز پر قانون کی خلاف ورزی کرنے والے مواد کے خلاف یہ مہم جاری رہے گی۔
تحقیقات کے دوران، دہلی پولیس نے تقریباً 450 سوشل میڈیا اکاو¿نٹس کی بھی نشاندہی کی جہاں مبینہ طور پر احتجاج سے متعلق ڈیپ فیک ویڈیوز اور اے آئیسے تیار کردہ مواد کو گردش کررہے تھے۔ پولیس نے متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ان اکاونٹس کو بلاک کرنے کی سفارش کی ہے۔ وہ ان اکاو¿نٹس اور ان کے مقاصد کے پیچھے افراد یا تنظیموں کی بھی چھان بین کر رہے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے اس کے اہم مطالبات کو تسلیم کرنے کے بعد ہفتہ کو چیسی جے پی نے اپنے 37 دن سے جاری احتجاج کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔ ان مطالبات میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ بھی شامل تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی