بدعنوانوں کو پکڑنے میں ہی نہیں ، سزا دلانے میں بھی نگرانی کے گراف میں تیزی سے اضافہ
اس سال جنوری سے 22 جولائی تک 11 بدعنوان سرکاری ملازمین کو سزا دلائی گئی پٹنہ، 23 جولائی(ہ س)۔سرویلنس اینڈ انویسٹی گیشن بیورو نہ صرف بدعنوان سرکاری ملازمین کو گرفتار کرنے میں آگے نہیں ہیں ،بلکہ انہیں سزاے دلانے کی کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
بدعنوانوں کو پکڑنے میں ہی نہیں ، سزا دلانے میں بھی نگرانی کے گراف میں تیزی سے اضافہ


اس سال جنوری سے 22 جولائی تک 11 بدعنوان سرکاری ملازمین کو سزا دلائی گئی

پٹنہ، 23 جولائی(ہ س)۔سرویلنس اینڈ انویسٹی گیشن بیورو نہ صرف بدعنوان سرکاری ملازمین کو گرفتار کرنے میں آگے نہیں ہیں ،بلکہ انہیں سزاے دلانے کی کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ رواں سال جنوری سے 22 جولائی تک 11 مقدمات میں 11 ملزمان کو عدالت قصور وار قرار دیتے ہوئے سزائیں سنائی ہیں۔ اس فہرست میں 22 جولائی کو نوادہ ضلع کے روہ سرکل کے اس وقت کے سرکل آفیسر بھولا پاسوان کو زیادہ سے زیادہ 4 سال قید اور 5ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔انہیں 2014 میں4ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا تھا۔ اسے انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دو مختلف دفعات کے تحت 3 اور 4 سال کی سخت قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ دونوں سزائیں ایک ساتھ چلیں گی۔ اس طرح اسے زیادہ سے زیادہ 4 سال کی سخت قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

نگرانی سطح سے گزشتہ سال 30بد عنوانوں کو سزا دلائی گئی تھی۔ یہ تعداد گزشتہ 25 سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔ سال 2000 اور 2001 میں محض دو بد عنوان لوگوں کو سزا دی گئی۔ 2002 اور 2005 میں سزا پانے والے افراد کی تعداد صفر تھی۔ اس کے بعد درمیان کے کچھ برسوں کو چھوڑ کر 2024 میں 18 قصور واروں کو سزائیں دلائی گئیں تھی لیکن 2025 میں اس سے ڈیڑھ گنا سے زیادہ یعنی 30 قصور واروں کو سزا دی گئی۔ یہ تعداد گزشتہ 25 برسوں میں ریکارڈ کی گئی سب سے زیادہ ہے۔ اس میں ایسے کئی ملزمان کو سزا دی گئی، جو رنگے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعد طویل عرصے سے بچتے آرہے تھے ۔ لیکن ان سب کو قصور وار قرار دے کر سزا سنادلائی گئی۔ جبکہ رواں سال صرف سات ماہ میں 11 ملزمان کو سزائیں دلائی گئیں۔ اگلے پانچ ماہ میں اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

رواں سال میں پہلی سزا جنوری کے آخر میں سنائی گئی۔ اس میں ویشالی ضلع کے اس وقت کے رینجر سیتارام چودھری کو ایک سال قید اور 10 ہزار روپے جرمانے کی سزادی گئی۔انہیں 1997 میں ڈیڑھ ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔ اس کے بعد فروری میں دیہی ترقیات محکمہ کے نوادہ کے اسپیشل ڈویژن کے اس وقت کے جونیئر انجینئر جے رام سنگھ کو ایک سال کی سخت قید اور 10ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ ملزم جے رام سنگھ کو 2008 میں 3000 روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا تھا۔ فروری میں تین ملزمان کو سزا دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ مارچ، اپریل، مئی، جون اور جولائی میں ایک ایک قصور وار کو سزا سنائی گئی ہے۔

اس معاملے میں نگرانی محکمہ کے ڈی جی جناب جتیندر سنگھ گنگوار کا کہنا ہے کہ مسلسل نگرانی، بغیر کسی تاریخ چھوٹے گواہوں کی عدالت میں مسلسل حاضری، عدالت میں ثبوت کو درست اور طاقتور انداز میں پیش کرنے کے علاوہ، مقدمات کی صحیح طریقے سے دماغی جانچ اور منطقی انداز میں عدالت کے سامنے پیش کرنے کے لیے ماہر وکلاء کی ٹیم کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ ان وجوہات کی بناء پر سزاؤں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ آنے والے وقت میں اس میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande