
مدھیہ پردیش کے چھترپور ضلع میں کین-بیتوا لنک منصوبے کے خلاف احتجاج جاری، متاثرہ گاوں میں چولہا بندی شروع ہوئی
چھترپور، 23 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے بندیل کھنڈ کے کین-بیتوا لنک منصوبے کو لے کر متاثرہ اور بے گھر گاوں والوں کی مخالفت مسلسل جاری ہے۔ کوپی گاوں میں برنا ندی گھاٹ پر چل رہی ’چتا تحریک‘ کو پولیس کے ذریعے ہٹائے جانے کے بعد تحریک نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ منصوبے سے متاثرہ کئی گاوں کے لوگوں نے اپنا احتجاج درج کرانے کے لیے اپنے گھروں میں ’چولہا بندی‘ شروع کر دی ہے۔
ادھر، جے کسان تنظیم کے لیڈر امت بھٹناگر کا مرن برت جمعرات کو 17ویں دن بھی جاری رہا۔ پولیس کارروائی کے بعد 20 جولائی کو انہیں ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں ان کا علاج چل رہا ہے۔ تحریک سے جڑے لوگوں اور لواحقین کا الزام ہے کہ اسپتال میں داخل امت بھٹناگر سے ان کے لواحقین، حامیوں، صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے نیز اسپتال کے احاطے میں پولیس کا سخت پہرہ ہے۔ اسی کی مخالفت میں متاثرہ گاوں کے لوگوں نے چولہا بندی کا فیصلہ کیا ہے۔
تاہم، ضلع ہیلتھ افسران نے ان الزامات سے انکار کیا ہے۔ افسران کا کہنا ہے کہ امت بھٹناگر کا بلڈ پریشر کم ہونے کے باعث ان کا مسلسل طبی معائنہ کیا جا رہا ہے۔ آئی سی یو کے مقررہ پروٹوکول کے تحت بیرونی لوگوں کے داخلے پر پابندی لگائی گئی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق، وہ ٹھوس غذا نہیں لے رہے ہیں اور فی الحال ڈرپ، پانی اور جوس کے سہارے ہیں۔
اس دوران، نربدا بچاو تحریک کی رہنما میدھا پاٹکر سمیت کئی سماجی کارکنوں اور کسان لیڈروں نے ویڈیو پیغام اور ای میل کے ذریعے امت بھٹناگر سے برت ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ تحریک کے مقام سے ہٹائے جانے سے پہلے امت بھٹناگر نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ کین-بیتوا لنک منصوبے سے متعلق گرام سبھاوں کی کارروائی میں مبینہ بے ضابطگیوں سے جڑے دستاویزات عام کریں گے۔
کین-بیتوا لنک منصوبے کے تحت چھترپور اور پنا ضلع کے متعدد گاوں مجوزہ زیرِ آب (ڈوب) علاقے میں شامل ہیں۔ معاوضہ، بحالی اور گرام سبھاوں کی رضامندی جیسے امور کو لے کر متاثرہ گاوں والے طویل عرصے سے مخالفت درج کرا رہے ہیں۔ تحریک کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ان کے مطالبات کا تسلی بخش حل نکلنے تک احتجاج جاری رہے گا۔
ہندوستھان سماچار
--------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن