کانگریس اور بی جے پی کارکنوں میں تصادم، پولیس کا لاٹھی چارج
حیدرآباد ،23 جولائی (ہ س)۔ تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں کانگریس اوربی جے پی کے کارکنوں کے درمیان اس وقت کشیدگی پیدا ہو گئی جب دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالیں۔ صورتحال اس قدربگڑ گئی کہ پولیس کو مداخلت کرتے ہوئے لاٹ
کانگریس اور بی جے پی کارکنوں میں تصادم، پولیس کا لاٹھی چارج


حیدرآباد ،23 جولائی (ہ س)۔

تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں کانگریس اوربی جے پی کے کارکنوں کے درمیان اس وقت کشیدگی پیدا ہو گئی جب دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالیں۔ صورتحال اس قدربگڑ گئی کہ پولیس کو مداخلت کرتے ہوئے لاٹھی چارج کرنا پڑا اور دونوں جماعتوں کے کئی رہنماؤں کوحراست میں لے لیاگیا۔ کانگریس کی جانب سے چلو لوک بھون”ریلی کااہتمام کیاگیا،جس کا مقصد مبینہ نیٹ پیپرلیک اور نئی دہلی میں راہل گاندھی سمیت دیگرکانگریسی رہنماؤں کی حراست کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بی مہیش کمار گوڑ کی قیادت میں ریلی نیکلس روڈ پراندراگاندھی کے مجسمے سے لوک بھون، سوماجی گوڑہ کی جانب روانہ ہوئی۔ دوسری طرف جب بی جے پی کارکن گاندھی بھون کے قریب پہنچے تو کانگریس کے کارکن بھی باہر آگئے، جس کے بعددونوں جماعتوں کے کارکن آمنے سامنے آگئے۔ دونوں جانب سے شدید نعرے بازی ہوئی، تلخ جملوں کا تبادلہ ہوااوردیکھتے ہی دیکھتے معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچ گیا۔اطلاعات کے مطابق تصادم کے دوران بعض کارکنوں نے لاٹھیاں بھی استعمال کیں،جبکہ کچھ کانگریسی کارکن احتجاجاً پولیس کی گاڑیوں پر چڑھ گئے۔

پہلے سے بھاری تعداد میں تعینات پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور مظاہرین کو منتشر کردیا۔ ادھروزیرِ اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے اپنے اسمبلی حلقہ کوڑنگل میں اپنی رہائش گاہ سے امبیڈکرچوراستہ تک احتجاجی مارچ کیا۔ڈاکٹربی آرامبیڈکرکے مجسمے پر گلپوشی کے بعد انہوں نے نئی دہلی میں راہل گاندھی، پریانکا گاندھی اوراحتجاج کرنے والے طلبہ کی حراست کی مذمت کی۔

اسی طرح نائب وزیرِ اعلیٰ ملو بھٹی وکرمارکا، وزیر کونڈا سریکھا اور متعدد کانگریسی ارکانِ اسمبلی نے بھی ہنمکنڈہ میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ ریاست کے مختلف مقامات پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے، جبکہ حالات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande