
اپنی ہی حکومت پر برسے بی جے پی رکن اسمبلی اجے بشنوئی، کہا- پی ڈبلیو ڈی وزیر کی ترجیحات میں نہیں ہے پاٹن-جبل پور سڑک
۔ شہپورا پل پانچ مہینے سے بند، ڈائیورٹ ٹریفک سے بڑھ رہے ہیں حادثات، وزیر اعلیٰ سے تعمیراتی کام جلد شروع کرانے کا مطالبہ
جبل پور، 23 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش بی جے پی کے رکن اسمبلی اور سابق وزیر اجے بشنوئی نے شہپورا پل کی تعمیر میں ہو رہی تاخیر اور پاٹن-جبل پور راستے کی ابتر حالت کو لے کر اپنی ہی حکومت کو گھیرتے ہوئے محکمۂ عوامی تعمیرات (پی ڈبلیو ڈی) کے طرزِ عمل پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے جمعرات کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ شہپورا پل پانچ مہینے بعد بھی چالو نہیں ہو سکا ہے، جس سے بھوپال-جبل پور کی بھاری گاڑیوں کی آمد و رفت (ٹریفک) پاٹن راستے سے گزر رہی ہے۔ اس سے سڑکیں خستہ حال ہو چکی ہیں اور مسلسل سڑک حادثات ہو رہے ہیں۔
اجے بشنوئی نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ بھوپال-جبل پور راستے کی ٹریفک پاٹن کی طرف ڈائیورٹ ہونے سے ’’آج پھر ایک جان چلی گئی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ شہپورا پل کی تعمیر مکمل نہیں ہونے سے پورا دباو پاٹن راستے پر آ گیا ہے، جبکہ یہ سڑک بھاری گاڑیوں کے لیے بنائی ہی نہیں گئی تھی۔ بشنوئی نے کہا کہ جبل پور-پاٹن سڑک کو چوڑا اور مضبوط کرنے کا منصوبہ بجٹ میں شامل ہے، لیکن اسے اب تک منظوری نہیں ملی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ منصوبہ محکمۂ عوامی تعمیرات کے وزیر راکیش سنگھ کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے، جس کی وجہ سے تعمیراتی کام شروع نہیں ہو پا رہا ہے۔
رکن اسمبلی نے بتایا کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو سے ملاقات کر کے انہیں خط سپرد کیا ہے۔ خط میں پاٹن-جبل پور اور پاٹن-مانکیڑی سڑک منصوبوں کو ترجیح دیتے ہوئے جلد تعمیراتی عمل شروع کرانے کی گزارش کی گئی ہے، تاکہ ڈائیورٹ ٹریفک کے باعث ہونے والے حادثات پر روک لگائی جا سکے۔ بھوپال-جبل پور کو جوڑنے والی نیشنل ہائی وے-45 پر شہپورا کے پاس تقریباً 400 کروڑ روپے کی لاگت سے بنا ریلوے اوور برج تعمیر کے محض تین سال کے اندر ہی تباہ ہو گیا۔ پہلے دسمبر میں اس کی ایک لین دھنس گئی تھی، جبکہ حال ہی میں دوسری لین کا حصہ بھی تباہ ہونے کے بعد پورے راستے کی ٹریفک کو پاٹن کی طرف ڈائیورٹ کرنا پڑا۔
پل تباہ ہونے کے معاملے میں مدھیہ پردیش روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایم پی آر ڈی سی) نے اس وقت کے اسسٹنٹ جنرل مینیجر اور ڈویژنل مینیجر کے خلاف کارروائی کی سفارش کرتے ہوئے ان کی پینشن روکنے کے لیے حکومت کو خط بھیجا تھا۔ تحقیقات میں دونوں افسران کو کام کے تئیں لاپرواہی کا ذمہ دار گردانا گیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن