مدھیہ پردیش اسمبلی: پرائیویٹ یونیورسٹی ترمیمی بل پر کانگریس کی مخالفت، حکومت سے واپس لینے کا مطالبہ
بھوپال، 22 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش اسمبلی کے مانسون اجلاس کے تیسرے دن بدھ کے روز مدھیہ پردیش نجی یونیورسٹی (ترمیم) بل-2026 پر بحث کے دوران کانگریس رکنِ اسمبلی مہیش پرمار نے بل کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے ریاست کے اعلیٰ تعلیمی نظام کے لیے نقصان د
کانگریس رکنِ اسمبلی مہیش پرمار


بھوپال، 22 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش اسمبلی کے مانسون اجلاس کے تیسرے دن بدھ کے روز مدھیہ پردیش نجی یونیورسٹی (ترمیم) بل-2026 پر بحث کے دوران کانگریس رکنِ اسمبلی مہیش پرمار نے بل کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے ریاست کے اعلیٰ تعلیمی نظام کے لیے نقصان دہ بتایا۔ انہوں نے حکومت سے بل واپس لینے اور اسے جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کو بھیج کر وسیع پیمانے پر غور و خوص کرانے کا مطالبہ کیا۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے مہیش پرمار نے کہا کہ مجوزہ ترمیم نجی یونیورسٹیوں کے قیام سے منسلک ضروری معیار کو کمزور کرتی ہے، جس سے اعلیٰ تعلیم کا معیار اور طلبہ کے مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ویاپم، نرسنگ کالج اور پیپر لیک جیسے معاملات سے سبق لینے کے بجائے حکومت تعلیمی نظام میں ایسی تبدیلیاں کر رہی ہے، جن کے دور رس برے نتائج ہو سکتے ہیں۔

پرمار نے کہا کہ بنیادی ایکٹ، 2007 کی دفعہ-7 میں کی گئی ترمیم سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق، اسی دفعہ کے ذریعے نجی یونیورسٹیوں کے معیار اور قابلِ اعتمادی کو یقینی بنانے والے ضوابط طے کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 25 ایکڑ زمین کی لازمی شرط ہٹا کر صرف ’’کافی زمین‘‘ کا پروویژن کیا گیا ہے۔ اسی طرح 5 کروڑ روپے کی فکسڈ ڈپازٹ (ایف ڈی) کی لازمی شرط اور انتظامی عمارت کے لیے 2,500 مربع میٹر رقبے کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔ پرمار کا کہنا تھا کہ ان تبدیلیوں سے یونیورسٹیوں کے قیام کے معیار میں ڈھیل ملے گی، جس سے تعلیم کا معیار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

کانگریس رکن اسمبلی نے سپریم کورٹ کے پروفیسر یشپال بنام چھتیس گڑھ حکومت کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے کافی بنیادی ڈھانچے کی اہمیت کو اجاگر کیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چھتیس گڑھ میں قواعد و ضوابط میں ڈھیل کے بعد بڑی تعداد میں نجی یونیورسٹیاں کھلی تھیں، جس کے بعد عدالت نے متعلقہ قانون کو منسوخ کر دیا تھا۔ پرمار نے حکومت سے پوچھا کہ اتنی اہم ترمیم سے پہلے کیا کسی ماہر کمیٹی کی تشکیل کی گئی، ماہرینِ تعلیم، وائس چانسلرز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے مشورہ لیا گیا اور اگر ایسا ہوا ہے تو اس کی رپورٹ ایوان کی میز پر رکھی جائے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ نجی یونیورسٹیوں کے قیام سے متعلق شرائط سے جڑا ایک معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ ایسے میں ترمیم لانا مناسب نہیں ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے قومی تعلیمی پالیسی-2020 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پالیسی معیار، تحقیق اور کثیر الشعبہ تعلیم پر زور دیتی ہے، اس لیے کسی بھی تبدیلی سے پہلے وسیع غور و خوض ہونا چاہیے۔ مہیش پرمار نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر موجودہ شکل میں بل نافذ ہوا تو اعلیٰ تعلیم کا معیار متاثر ہو سکتا ہے، طلبہ اور سرپرستوں کا اعتماد کمزور پڑ سکتا ہے اور ریاست کی ڈگریوں کے وقار پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

کانگریس نے مطالبہ کیا کہ بل کو فوری طور پر واپس لیا جائے، جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کو بھیج کر تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کرائی جائے اور سپریم کورٹ کے آخری فیصلے اور مجوزہ مرکزی تعلیمی قانون کے بعد ہی اس سلسلے میں کوئی فیصلہ لیا جائے۔ وہیں، حکومت کی جانب سے بل کو اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات اور عمل کو آسان بنانے کی سمت میں اٹھایا گیا قدم بتایا گیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande